اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

خودکشی کر نے والے کس بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں؟مردوں اور عورتوں میں خودکشی کا تناسب کتنا ہے؟ماہرین کے حیرت انگیز انکشافات

datetime 28  ستمبر‬‮  2019 |

کراچی (این این آئی) اسلامی ممالک میں خودکشی کا تناسب دوسرے ممالک کی بنسبت کم ہے۔ مرد حضرات عورتوں کے مقابلے میں تین گناہ زیادہ خودکشی کر تے ہیں۔دنیا میں ہر 40سیکنڈ میں ایک شخص خودکشی کرتا ہے جس کی تعداد لاکھوں میں شمار کی جاسکتی ہے۔عموماًخودکشی کر نے والے کسی نہ کسی نفسیاتی مرض میں مبتلا ہوتے ہیں۔ مقررنین نے کہا 12سے 14سال کے بچوں میں خودکشی کے واقعات رونما ہورہے ہیں۔ایسے بچے جن کے والدین کم پڑھے لکھے یا مائیں کسی ذہنی بیماری کا شکار ہوں

یا پھر ایسے بچے جو جلدی تشدد پر اتر آئیں اور تنقید برداشت نہ کر سکیں۔ایسے بچے اقدام خودکشی سے پہلے ڈیپریسڈ دکھائی دیتے ہیں ایسے بچوں کو فوراً کسی ماہر نفسیات کو دکھاناچاہئے۔ ڈیپریشن میں مبتلا 6فیصد افراد خودکشی کر تے ہیں شراب اور مختلف نشہ کر نے والوں میں خودکشی کا تناسب زیادہ ہے خودکشی کی معاشرتی وجوہات میں بے روزگاری، غربت، طلاق اور رشتے میں دراڑیں پڑنا بھی شامل ہے۔ میڈیا اور ٹی وی پروگرام میں خودکشیوں کے سین دکھانے سے بھی بیمار ذہن اس طرف راغب ہوتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار منتظم اعلیٰ کراچی نفسیاتی ہسپتال ڈاکٹر عبد الرحمن بن مبین، ڈاکٹر اختر فرید صدیقی،ڈاکٹر صلاح الدین،ڈائیریکٹر ماہ ُخ اختر نے عالمی یوم انسداد خودکشی کے موقع پر مرکز میں منعقدہ میڈیا بریفنگ کے دوران کیا۔ماہرین نے کہا اکثر مریضوں کو داخل کر کے علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔ جبکہ اکثر مریض صرف کونسیلنگ سے بھی ٹھیک ہوجاتے ہیں۔آغاخان ہسپتال کے ایک سروے کے مطابق پاکستان میں خودکشی کا سالانہ تناسب چھ سے آٹھ ہزار افرادہے۔ جبکہ سالانہ 60ہزار سے ایک لاکھ افراد خودکشی کی کوشش کرتے ہیں۔جبکہ خودکشی کی سوچ رکھنے والے افراد کی تعداد چھ سے آٹھ لاکھ ہے۔مقررین نے کہا کہ سب سے زیادہ خودکشی کی رپورٹ سندھ میں 52فیصد، پنجاب میں 38فیصد جبکہ خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں 05فیصد ہے مقررین نے کہا کہ زیادہ تر خودکشی کے واقعات خاندانی جھگڑے 45فیصد، معاشی پریشانی و بے روزگاری 37فیصد، محبت میں ناکامی7فیصد، نفسیاتی بیماری 6فیصد، جسمانی بیماری 8فیصد اور

امتحان میں ناکامی5فیصد ہے۔ پاکستان میں مرد عورتوں کی مقابلے میں زیادہ خودکشی کر تے ہیں مردوں میں 51فیصد شادی شدہ، 44فیصد غیر شادی شدہ،اور 5فیصد طلاق یافتہ یا رنڈوں کی ہوتی ہے۔جبکہ خواتین میں 60فیصد شادی شدہ، 35 فیصد غیر شادی شدہ کی ہوتی ہے۔مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی شخص خودکشی کے متعلق ذکر کر ے تو اُسے معمولی نہ لیا جائے بلکہ اُسے فوراً کسی ماہر نفسیات کو دکھایا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…