جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

مسئلہ کشمیر کے بعدپاکستان کے ساتھ آئینی اور قانونی الحاق کرنیوالی ریاست ”جونا گڑھ“ پربھی بھارت کے غیرقانونی قبضے کیخلاف اقوام متحدہ میں بڑا قدم اُٹھالیاگیا

datetime 28  ستمبر‬‮  2019 |

اسلام  آباد(آن لائن)پاکستان میں  تعینات اقوا م متحدہ کے ریزیڈنٹ ہیو مینیٹیرین کوارڈینیٹر  کنٹ آسٹبی سے جوناگڑھ اسٹیٹ مسلم فیڈریشن کے وفد نے اسلام آباد میں ملاقات کی۔ جوناگڑھ کے  کیس  کو اقوا م متحدہ میں ری اوپن  کرنے  کا  مطالبہ  کیا۔  ریاست  جوناگڑھ کے  پاکستان  کے  ساتھ  آئینی  ا ور  قانونی  الحاق  ا   ور  غیر  قانونی  بھارتی قبضہ  سے  آگاہ  کیا۔  عبدالعزیز  عرب  نے  یادداشت  پیش  کی  ا ور  کراچی  آنے کی  دعو ت  دی.۔

کنٹ آسٹبی نے یاد داشت ا ور  یو این سیکرٹر ی جنرل کے نال خط پہنچانے کی یقین دہانی کرائی۔ وفد میں صدر اقبال ساندھ، سیکرٹری جنرل عبدالعزیز عرب، فنانس سیکرٹری فاروق شیخ، نائب صدر یوسف شیخ، عبدالستار ترک، جوائنٹ سیکرٹری قاضی مصطفیٰ، سید سجاد  حسین،  آفس سیکرٹری امام ملک شامل تھے۔  وفد نے مزید کہا کہ جونا گڑھ ا ور حیدر  آباد کے مسائل مسئلہ کشمیر کے ساتھ نہ  صرف اقوا م متحدہ بلکہ میڈیا ا ور بین الاقوامی فورمز پر بھر پور طریقے سے پیش   کیے جانے چاہئیں۔   نواب  آف جونا گڑھ بین الاقوامی ا ور علاقائی سطح پر اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ مسئلہ کشمیر ا ور ریاست جو ناگڑھ کی اپنی جدا گانہ حیثیت ہے ا ور دونوں کو عالمی برا دری کے سا منے پیش کیا جاناچاہیے   کیونکہ جوناگڑ ھ کی پاکستان کے ساتھ الحاقی دستاویز ابھی تک اپنی قانونی حیثیت  رکھتی ہے قائداعظم کے اس الحاقی دستاویز پر دستخط ہمارے لئے کافی ہیں ا ور جو ناگڑھ تاریخی و قانونی طور پر پاکستان کا حصہ ہے۔ حکومت پاکستان کی ذمہ دا ری   ہے کہ وہ اس مقدمہ کی پیروی کرے ا ور اس مسئلہ کے حل کے لیے کا وشیں  کریں۔ 1947ء  میں جوناگڑھ کے نواب مہابت خانجی نے گورنر جنرل  آف پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے ساتھ الحاقی دستاویز پر دستخط کئے ا ور نتیجتاً پندرہ ستمبر کو جوناگڑھ ریاست پاکستان کا باقاعدہ حصہ بن گئی۔ 9 نومبر 1947ء  کو بھارتی  فوج نے ریاست میں امن و امام کا بہانہ بنا کر قبضہ جما لیا۔ نواب  آ  ف جونا گڑھ جو اس و قت پاکستان میں مو جود تھے، اس قبضے کے بعد واپس نہ جا سکے۔

بھارتی جارحیت کے خلاف قائد اعظم نے اقوا م متحدہ سے رجوع کیا۔تاہم یہ مسئلہ ا بھی تک حل طلب ہے۔ اب وقت  آچکا ہے کہ اس مسئلے کا قانونی حل کیا جائے ا ور  حقدا ر کو ان کا حق ملے۔ جونا گڑھ کا مقدمہ ابھی بھی پاکستان کی گرفت میں ہے اور1996 ء  میں پاکستانی وزیر خارجہ نے قومی اسمبلی میں اپنے بیان میں کہا تھا کہ پا کستان جوناگڑھ کے مسئلہ کو ابھی بھی اپنا تصفیہ طلب مسئلہ سمجھتا ہے ا ور جو نا گڑھ کے لیے انتھک کاوش کرتا رہے گا۔ نریندرا مودی کی حکومت کے دوران بھارتی ریاستی دہشت گر دی ا ور جنگی جنون اقوا م عالم پر روز روشن کی طرح عیاں  ہو چکا ہے۔

بھارت میں دراصل ایک انتہا پسند تنظیم  آر ایس ایس کی حکومت ہے ا   ور یہ بات ا قوا م عالم کو سمجھ لینی چا ہیے کہ بھارتی ایٹمی ہتھیار دہشت گرد تنظیم کے ہاتھ لگ چکے  ہیں۔ کشمیر یوں پر ڈھا ئے جانے والے بھارتی مظالم، کشمیر میں نہتے مسلمانوں کا قتل عام، آبادی کے تناسب میں تبدیلیاں ا و ر جوناگڑھ پر قبضہ بھارتی ریاستی دہشت گردی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ اقو ام عالم  کو جنوبی ایشیا میں ایٹمی جنگ کے خطرات سے نمٹنے کیلئے تقسیمِ ہند کے وقت پیدا ہونے والے تنازعا ت کو حل کرنا ہو گا و گرنہ یہ صرف پورے خطے کیلئے نہیں بلکہ پوری دنیا کے امن کیلئے خطرہ بنا رہے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…