بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

شہزادہ ہیری کا ایسا چہرہ سامنے آگیا کہ دیکھ کر ہر کوئی حیران رہ گیا

datetime 28  ستمبر‬‮  2019 |

جوہانس برگ(این این آئی )برطانوی شہزادہ ہیری اپنی اہلیہ میگن میرکل کے ہمراہ اپنی آنجہانی والدہ لیڈی ڈیانا کے نقش قدم پر چلتے ہوئے افریقی ملک انگولا کے اس علاقے کا دورہ کیا جہاں ان کی ماں نے 1997 میں بارودی سرنگوں کے خاتمے کی مہم کے دوران بارودی سرنگوں سے بھرے

علاقے کا وزٹ کیا اور اس سفر سے شہرت حاصل کی تھی۔میڈیارپورٹس کے مطابق لیڈی ڈیانا کے اس دورے کا مقصد بارودی سرنگوں جیسے اس مہلک اسلحے کا پوری دنیا سے خاتمہ تھا تاہم وہ اس میں کامیاب نہیں ہوسکیں کیونکہ بارودی سرنگوں کا اب بھی بے تحاشا استعمال جاری ہے۔شہزادہ ہیری جنوبی افریقا کے دورے کے دوران اس مقام پر گئے جہاں سنہ 1997 میں ان کی والد آنجہانی شہزادی ڈیانا نے بارودی سرنگوں کے خلاف مہم کے دوران تصویر بنوائی تھی۔ شہزادہ ہیری کا اپنے خاندان کے ہمراہ جنوبی افریقا کا یہ پہلا دورہ ہے۔ہمبو کا علاقہ انگولا میں کئی سال تک بارودی سرنگوں سے بھرا رہا ہے۔ جہاں کی آبادی نے وحشیانہ خانہ جنگی کا بھی سامنا کیا۔ توقع ہے کہ سنہ 2025 تک انگولا بارودی سرنگوں سے پاک ہو جائے گا۔بارودی سرنگوں کی تلفی کیلیے سرگرم تنظیم ہیلو ٹرسٹ کی ڈائریکٹر نے کہا کہ ڈیانا کے دورے کو آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔ لوگوں کو یاد ہے کہ لیڈی ڈیانا جب اس علاقے میں آئیں تو ان کا گرم جوشی سے استقبال کیا گیا، تاہم لوگ ان کے تباہ کن تنازعہ کو تسلیم کرنے پر آمادگی سے حیران ہوئے۔برطانوی شاہی جوڑے کا کیپ ٹائون میں شاندار استقبال کیا گیا۔ شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ تین دن تک وہاں قیام کریں گے۔اس دوران وہ پسماندہ طبقات اور نوجوانوں کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں کے عہدیداروں سے بھی ملاقات کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…