بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت میں اب تک کا سب سے بڑا ’سیکس اسکینڈل‘ سامنے آگیا،8 ریاستی وزرا، ایک درجن اعلیٰ بیورو کریٹس اور امیر ترین افراد کو نوجوان لڑکیوں نے پھنسایا،سنسنی خیز انکشافات

datetime 27  ستمبر‬‮  2019 |

نئی دہلی (این این آئی)بھارت کا اب تک کا سب سے بڑا ’سیکس‘ اور ’بلیک میلنگ‘ اسکینڈل سامنے آیا ہے، جس میں کم سے کم 8 ریاستی وزرا، ایک درجن اعلیٰ بیورو کریٹس اور امیر ترین افراد کو نوجوان لڑکیوں نے پھنسایا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ اسکینڈل بھارت کی ریاست مدھیا پردیش میں سامنے آیا اور پولیس اس کیس کو اب تک کا بھارت کا سب سے بڑا سیکس و بلیک میلنگ کا اسکینڈل قرار دے رہی ہے،

اس اسکینڈل کی 5 مرکزی ملزم خواتین کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے جو ایک این جی او کے نام پر حکومتی وزیروں، سرکاری افسران، تاجروں اور امیر شخصیات کو پیار کے نام پر پھنسا کر انہیں بلیک میل کرتی رہیں۔پولیس کے مطابق اس اسکینڈل کیس کے دوران گزشتہ کچھ عرصے کے دوران لڑکیوں اور خواتین نے مدھیا پردیش کے 8 ریاستی وزیروں، اعلیٰ سرکاری افسران، تاجروں اور امیر ترین افراد کی ایک ہزار قابل اعتراض اور برہنہ ویڈیوز بنائیں۔اس اسکینڈل کی مرکزی ملزمہ 39 سالہ شویتا جین نے اعتراف کیا کہ انہوں نے ہی اس اسکینڈل کا منصوبہ تیار کیا اور اس مقصد کے لیے غریب اور متوسط گھرانے کی نوجوان لڑکیوں کی خدمات حاصل کی گئیں۔پولیس کے مطابق اس کیس کی تفتیش کے لیے گرفتار کی گئی 5 خواتین مرکزی ملزمان ہیں جو اپنے اپنے حساب سے ایک الگ گینگ چلا کر اعلیٰ شخصیات کو بلیک میل کرتی رہیں۔ان خواتین کی جانب سے مدھیا پردیش سمیت دیگر ریاستوں کی خوبرو اور کالج میں زیر تعلیم لڑکیوں کو نوکریوں اور پرتعیش زندگی کی لالچ دے کر بھرتی کیا گیا اور انہیں وزرا، اعلیٰ افسران، تاجروں اور بااثر ترین مرد حضرات کو بلیک میل کرنے کا ٹارگٹ دیا۔اس اسکینڈل کو ’ہنی ٹرپ‘ کا نام دیا گیا ہے اور اس کیس میں پولیس کو ملنے والی ویڈیوز میں وزرا، اعلیٰ افسران اور بااثر افراد کی برہنہ اور قابل اعتراض ویڈیوز بھی شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق بھارت کے سب سے بڑے اس ’سیکس اسکینڈل‘میں نہ صرف خواتین اور نوجوان لڑکیاں بلکہ مدھیا پردیش کے صحافی بھی ملوث ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اس کیس میں نہ صرف عام صحافی بلکہ اخبارات کے ایڈیٹرز اور ایک ٹی وی چینل کا مالک بھی ملوث ہے جن پر الزام ہے کہ وہ بلیک میل ہونے والے افراد اور خواتین کے درمیان معاہدہ کرنے میں کردار ادا کرتے تھے۔کیس میں ملوث صحافیوں سے متعلق بتایا جا رہا ہے کہ وہ اس وزرا، سرکاری افسران اور بااثر شخصیات کو ایسا تاثر دیتے تھے کہ وہ انہیں ایک بدنامی سے بچا رہے ہیں، لیکن دراصل وہ خواتین کے گینگ سے ملے ہوتے تھے۔اس اسکینڈل کے سامنے آنے کے بعد بھارت میں تہلکہ مچ گیا ہے اور اس کیس کے حوالے سے ہر روز نئی کہانیاں سامنے آ رہی ہیں اور خیال کیا جا رہا ہے کہ اس اسکینڈل کے تحت بلیک میل کیے جانے والے اور سیاستدان بھی سامنے آئیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…