جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

طاقت کا اندھا دھند استعمال کرو بھارت طاقت کے نشے میں چور ، مقبوضہ کشمیر میں جو آزادی کا نعرہ لگائے اس کیساتھ کیا سلوک کیاجائے؟ بھارتی حکومت نے احکامات جاری کر دیئے

datetime 27  ستمبر‬‮  2019 |

سری نگر( آن لائن ) بھارت کے مشیر برائے قومی سلامتی امور اور مقبوضہ وادی کشمیر کے حوالے سے مودی حکومت کے نقشہ نویس اجیت ڈوول نے قابض بھارتی افواج، پیرا ملٹری فورسز اور پولیس کو سختی سے ہدایات دی ہیں کہ وہ بھرپور ریاستی طاقت کا اندھا دھند استعمال کرتے ہوئے حق خود ارادیت کے علمبرداروں اور وادی چنار کی آزادی کے متوالوں کو پوری طرح سے کچل دیں۔

انہوں نے اس ضمن میں مزید تیزی لانے کی بھی ہدایات دی ہیں۔اجیت ڈوول نے یہ ہدایات ایسے وقت میں دی ہیں کہ جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 74 واں سالانہ اجلاس نیویارک میں جاری ہے اور اس سے پاکستانی وزیراعظم عمران خان اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی آج (بروز جمعہ) خطاب کرنے والے ہیں۔مودی کی دوسری مدت حکومت میں وفاقی وزیرکے منصب کے حامل اجیت ڈوول گزشتہ روز مقبوضہ وادی کشمیر کے دورے پر پہنچے تھے جہاں انہوں نے امن و امان کے حوالے سے اعلی سطحی اجلاس کی صدارت کی تھی۔مقبوضہ وادی کشمیر کی سابق وزیراعلی محبوبہ مفتی نے ان کی آمد پر ٹوئٹ کرکے استفسار کیا تھا کہ اس مرتبہ انہوں نے کھانے کا مینو کیا رکھا ہے؟ کیونکہ گزشتہ مرتبہ تو انہوں نے چند کشمیریوں کے ساتھ بریانی کھاتے ہوئے تصویر کھنچوا کرذرائع ابلاغ کو جاری کی تھی۔بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق اجیت ڈوول نے اپنے دورے کے دوران سیکیورٹی افسران کو سختی سے ہدایات دیں کہ وہ وادی کے مخصوص علاقوں میں اپنی کارروائیاں تیز کریں اور بھارت مخالف مہم کو بطور خاص نشانہ بنائیں۔مقبوضہ وادی کشمیر میں جب بھارت کی سیکیورٹی فورسز مظلوموں کو نشانہ بناتی ہیں تو وہ احتجاجی مظاہرہ کرتے ہیں اور بھارت مردہ باد کے نعرے لگاتے ہیں۔ عالمی دنیا کو حقیقی صورتحال سے بے خبر رکھنے کے لیے انتہا پسند مودی حکومت نے گزشتہ 53 دنوں سے وادی میں مواصلاتی رابطوں کے نظام کو معطل کررکھا ہے۔بھارت کے مشیر برائے قومی سلامتی امور اجیت ڈوول نے بطور خاص سیکیورٹی افسران کو ہدایات دیں کہ وہ سیب کی پیٹیوں کی وادی سے باہر بحفاظت منتقلی کو بھی یقینی بنائیں۔سیب کے حوالے سے مقبوضہ کشمیر کو خاص اہمیت حاصل ہے لیکن وادی کے حالات کے باعث اس مرتبہ سیب کے باغات پھلوں سے لدے ہونے کے باوجود انہیں درآمد نہیں کیا جا پا رہا ہے اور کسانوں کی مالی مشکلات بڑھ رہی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…