بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

ایران کا سعودی عرب سے یمن میں جارحیت ختم کرنے کا مطالبہ

datetime 26  ستمبر‬‮  2019 |

تہران(این این آئی)ایران کے صدر حسن روحانی نے سعودی عرب سے یمن میں جارحیت ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ امریکا نہیں بلکہ ہم ایک دوسرے کے پڑوسی ممالک ہیں، کسی بھی واقعہ کی صورت میں ہم اور آپ تنہا نہیں رہیں گے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں ایرانی صدرحسن روحانی نے کہا کہ یمن میںجارحیت ختم کرنے کے ساتھ ہی

سعودی عرب کی سکیورٹی کی ضمانت دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب غیرملکیوں کو دعوت دینے کے بجائے یمن میں محاذ آرائی ختم کرے۔انہوں نے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں نام لیے بغیر سعودی عرب اور خلیجی ممالک کو مخاطب کر کے کہا کہ امریکا نہیں بلکہ ہم ایک دوسرے کے پڑوسی ممالک ہیں، کسی بھی واقعہ کی صورت میں ہم اور آپ تنہا نہیں رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ ایران اپنے اور پڑوسی ملکوں کے لیے امن چاہتا ہے اور خلیج فارس میں امن صرف علاقائی ممالک ہی قائم کرسکتے ہیں۔ آبنائے ہرمز استعمال کرنے والے ممالک کومذاکرات کی دعوت دیتا ہوں جبکہ سعودی عرب کا امن یمن جنگ کے خاتمے میں چھپا ہے۔ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ امریکہ سلامتی کونسل کی بات مانتا ہے نہ احترام کرتا ہے۔ اس لیے امریکہ کچھ بھی کہے یورپی ممالک کے ساتھ جوہری معاہدے پر عمل کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایران اپنی سالمیت اور خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا جبکہ امریکہ نے معاہدے توڑے ہیں اور پھر مذاکرات کی بات کرتا ہے۔ ایران پر پاپندیاں ختم کی جائیں تاکہ مذاکرات کا راستہ کھل سکے۔ایرانی صدر نے کہا کہ خطہ تباہی کے دھانے پر ہے اور ہم غیروں کی مداخلت ہرگز برداشت نہیں کریں گے، ہماری سالمیت کے خلاف کسی بھی قسم کے اقدام کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ خطے کا امن و امان امریکی افواج کے اخراج کے ساتھ ہی ممکن ہے۔ امریکہ کی 18 سالہ موجودگی خطے میں دہشت گردی کو روک نہ سکی لیکن ایران نے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر داعش کو ختم کر دیا۔حسن روحانی نے کہا کہ امریکہ نے ایران کو عالمی معیشت میں حصہ دار بننے سے محروم کر رکھا ہے اور ہماری تاریخ ہے کبھی بھی بیرونی قابضین کے سامنے سر نہیں جھکایا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…