جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

مقبوضہ کشمیر میں 13ہزار سے زائد نوجوان غائب ہونے کا انکشاف، وادی کا دورہ کرنیوالی خواتین تنظیموں کی رہنمائوں نےمودی سرکار کے کارنامے آشکار کردئیے

datetime 25  ستمبر‬‮  2019 |

نئی دہلی(این این آئی)مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنے والی خواتین تنظیموں کی رہنمائوں نے مسلم اکثریتی وادی کشمیر کی سنگین صورتحال کے بارے میں حقائق پر مبنی ایک تفصیلی رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ 51روز کے دوران تیرہ ہزار سے زائد نوجوان غائب کر دیے گئے ۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مسلم ویمنز فورم کی ڈاکٹر سیدہ حمید، پریگتی شیل مہیلا سمتی کی پونم کوشک اوراینی راجہ ، نیشنل فیڈریش آف انڈین ویمن کی کنولجیت کور اور پنکھری ظہیرسمیت پانچ خواتین رہنمائوں نے 17سے 21ستمبر 2019تک مقبوضہ کشمیر کا دورہ کیاہے۔ انہوں نے دہلی پریس کلب میں صحافیوں اور دانشوروں کے سامنے اپنے مشاہدات بیان کئے۔ ڈاکٹر سعیدہ حمید اور اینی راجہ نے کہاکہ بہت تحقیق کے بعدہم کہہ رہی ہیں کہ گزشتہ 51روز کے دوران جموںوکشمیر میں تقریباً 13ہزار نوجوان غائب ہوگئے۔انہوں نے کہاکہ ہم سرینگر سمیت شوپیان ، پلوامہ اور بانڈی پورہ کے بہت سے دیہات میں گئیں۔ انہوں نے کہاکہ ایک خاتون نے بتایا کہ بھارتی فوج جان بوجھ کر نوجوانوں کو مظالم کا نشانہ بناتی ہے۔ جب والدین اپنے بچوں کی تلاش میں جاتے ہیں تو انہیں 20ہزار سے 60ہزار روپے کا خرچہ اٹھانا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج میں کشمیری نوجوانوں کے لیے نفرت صاف نظر آتی ہے ۔ انہو ں نے کہاکہ جب بھارتی فورسزدروازہ کھٹکھٹاتی ہیں تو کوئی بزرگ دروازہ کھولنے کے لیے جاتا ہے اور ہم دعا کرتے ہیں کہ وہ محفوظ رہے لیکن فورسز اہلکار عمرکا لحاظ کئے بغیر ہی اندھا دھند تھپڑوں کی بارش کرتے ہیں۔ رپورٹ میں کہاگیا کہ نماز مغرب کے بعد رات آٹھ بجے مقبوضہ وادی کی تمام روشنیاں گل ہوجاتی ہیں اور کرفیو کی خلاف ورزی پر بھارتی فورسز غصے میں آکر بلا لحاظ عمر لوگوں کو اٹھا کر لے جاتی ہیں۔

ایک اور خاتون نے کہا کہ جب کتے بھونکتے ہیں تو ہم سمجھ جاتے ہیں کہ باہر فوج ہے۔ ایک شخص نے کہاکہ میں روشنی کے لیے اپنا فون بھی نہیں کھول سکتاتاکہ میں اپنی چھوٹی بچی کو واش روم لے جاسکوں۔ رپورٹ میں کہاگیا کہ سڑکوں پر کوئی پبلک ٹرانسپورٹ نہیں ہے اور ایمبولینسز تک رسائی نہ ہونے کے سبب بہت سی خواتین دبائو اور خوف کے باعث وقت سے پہلے ہی بچوں کو جنم دیتی ہیں۔ ایک لڑکی نے خواتین ٹیم کو بتایا کہ لگتا ہے کہ بھارتی حکومت ہمیں کھڑا کرکے کہہ رہی ہے کہ ایک ساتھ بولو۔

انہوں نے کہاکہ بھارتی فوج نے ہمیں نقاب اتارنے کے لیے کہااور ہمیں ہراساں کیا ۔ رپورٹ میں کہاگیا کہ کسی بھی صورت میں حالات نارمل نہیں ہیں اور جو لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں وہ جھوٹ بولتے ہیں اور حقائق کو مسخ کرتے ہیں۔خواتین رہنمائوں نے علاقے سے بھارتی فوج اور پیراملٹری فورسز کے فوری انخلاء ، گرفتار افراد کے خلاف درج تمام مقدمات کے خاتمے اور ان کے بارے میں معلومات کی فراہمی،بڑے پیمانے پر پر تشدد کارروائیوں کی تحقیقات اور ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی اور مواصلاتی ذرائع کی معطلی کی وجہ سے جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کے لیے معاوضے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے انٹرنیٹ اور موبائل فون سمیت تمام مواصلاتی ذرائع کی بحالی ، دفعہ 370اور35A کو دوبارہ نافذ کرنے ، کشمیریوں کے مستقبل کے حوالے سے فیصلہ سازی میں ان سے مذاکرات اور بھارتی فوج کی طرف سے ڈھائے جانے والے مظالم کی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…