بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

“کشمیر کا درد ہمارے وجود کا درد ، ظلم کے مقابلے میں خاموش رہنے والا بےزبان شیطان ہے اگر ہر کوئی خاموش ہو تو ہم پھر بھی بولیں گے، ترک صدرطیب ایردوان کاامریکہ میں دبنگ خطاب

datetime 24  ستمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ کشمیر کا درد ہمارے وجود کا درد ہے۔ ظلم کے مقابلے میں خاموش رہنے والا بےزبان شیطان ہے۔ اگر ہر کوئی خاموش ہو تو ہم پھر بھی بولیں گے۔ ترکی ظالم کے مقابلے میں ہر مظلوم کے ساتھ ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے امریکہ میں مسلم کمیونٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،انہوں نے کہاکہ آج بھی ترکی اپنا تاریخی کردار ادا کر رہا ہے اور ملکی شناخت دیکھے بنا وہ ظالم کے بجائے مظلوم کے ساتھ کھڑا ہے۔ آج ترکی دنیا میں سب سے زیادہ مدد کرنے والا ملک ہے۔ ہر مظلوم کے لیے ہمارے دل اور دروازے کھلے ہیں۔یاد رہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیےجانے سے قبل بھی انہوں  نے کہا  تھا کہ آج تک سلامتی کونسل شام، فلسطین، برما،القدس اور کشمیر جیسے دیرینہ اور حل طلب مسائل کو حل کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے،کشمیر اور فلسطین جیسے تنازعات برسوں سے سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر ہیں مگر ان کے حل کے لیے کوئی عملی اقدام نہیں کیا گیا، فلسطین کا مسئلہ 7 عشروں سے اقوام متحدہ کے فورم پرحل طلب ہے ، اقوام متحدہ اسرائیل سے اپنی کسی ایک قرار داد پربھی عمل درآمد نہیں کراسکی۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو اسرائیل کی طرف سے کی گئی ہربات کو قبول نہیں کرنا چاہیے، اسرائیل کی بات سچ نہیں ہوتی اور نہ صہیونی ریاست کو عالمی ادارے میں اتنی زیادہ اہمیت دی جانی چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ انسانیت پورے کرہ ارض پرپھیلی ہوئی ہے، مگر یہ افسوسناک امر ہے کہ سلامتی کونسل میں صرف 5 ملکوں کی بات مانی جاتی ہے جنہیں ویٹو کی طاقت حاصل ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…