ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

اورنج لائن میٹرو ریل سسٹم قومی خزانے پر بوجھ بن گیا منصوبے کے کچھ اجرا میں کمی کے باوجود لاگت کتنی بڑھ گئی ،جانئے

datetime 21  ستمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)صوبائی دارالحکومت لاہور میں اورنج لائن میٹرو ریل سسٹم کی تعمیر میں تاخیر سے منصوبے کی پریمیم لاگت 50 فیصد تک بڑھ گئی ۔روزنامہ جنگ کے مطابق پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے افسران نے انکشاف کیا ہے کہ اس میگا پراجیکٹ پر ترقیاتی کام کی معطلی سے قومی خزانے کو 11 ارب روپے کا بوجھ اٹھانا پڑا ہے۔

منصوبے کی تخمینہ لگائی گئی پریمیم لاگت 22 ارب روپے ہے لیکن یہ بڑھ کر 30 ارب روپے ہوگئی ہے۔ اس منصوبے کیلئے فٹ پاتھوں کی تعمیر کیلئے اضافی 3 ارب روپے مختص کرنے سے مجموعی پریمیم لاگت 33 ارب روپے ہوگئی ہے۔ اورنج لائن میٹرو ریل سسٹم کے دو اجزا ہیں۔ ایک سی پیک اور دوسرا لوکل۔ پہلا جز سی پیک منصوبے کا حصہ ہے جبکہ دوسرے حصے کو پنجاب حکومت فنڈ کرتی ہے۔ پہلے جز کی تخمینہ لگائی گئی لاگت 1 ارب، 45 کروڑ، 81 لاکھ، 41 ہزار اور 720 روپے ہے۔ سی پیک جز کیلئے مکمل فنڈنگ چینی حکومت کی جانب سے کی جارہی ہے تاہم لوکل جز کی تخمینہ لگائی گئی پریمیم لاگت 22 ارب روپے سے بڑھ کر 33 ارب روپے ہوگئی ہے۔ منصوبے کے اخراجات میں کمی کرنے کیلئے موجودہ پنجاب حکومت نے اس منصوبے کے کچھ اجزا میں کمی کردی ہے لیکن پھر بھی لاگت 50 فیصد تک بڑھ گئی ہے۔ پی ایم ٹی اے کے افسران کا دعویٰ ہے کہ لوکل جز کی قیمت میں اضافہ تاخیروں کی وجہ سے نہیں جیسا کہ سول ورکس اور ای اینڈ ایم وقت پر مکمل ہوا۔یاد رہے کہ اس منصوبے کا افتتاح اس وقت کے وزیر اعلیٰ شہبازشریف نے کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…