پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے رات گئے اعلی سطح کا اجلاس طلب کر لیا ، چونیاں میں بچوں کے قتل پر شدید برہم ، بڑا حکم جاری کر دیا

datetime 20  ستمبر‬‮  2019 |

لاہور(پ ر )وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے رات گئے اعلی سطح کا اجلاس طلب کر لیا ۔انسپکٹر جنرل پولیس نے کیس پر ہونے والی اب تک کی پیش رفت سے بھی وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا- وزیراعلیٰ کو چونیاں میں بچوں کے قتل کے افسوسناک واقعہ کے بارے میں رپورٹ پیش کی گئی۔وزیراعلیٰ بچوں کے بہیمانہ قتل کا واقعہ رونماہونے پرسخت برہم ہوتے کہا ہے کہ مقتول بچوں کی بازیابی کیلئے جدید انداز سے تفتیش کی جاتی تو ایسے اندوہناک واقعہ سے بچاجاسکتا تھا۔ جن کے پیارے بچے دنیا سے چلے گئے

اس کا دکھ وہی جانتے ہیں۔خدا نخواستہ یہ واقعہ ہمارے بچے سے ہو تو ہم پر کیا بیتے گی- بار بار ایسے واقعات پولیس کی نا اہلی اور غفلت کا نتیجہ ہے – پولیس نے بچوں کی گمشدگی کے باوجود فوری اقدامات نہیں کئے- جو کام نہیں کرے گا وہ گھر جائے گا- وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے خبر دار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی نا اہل افسر یا اہلکار کو برداشت نہیں کروں گا – غفلت یا کوتاہی کے ذمہ داروں کا کڑا احتساب ہوگا۔سپیشل برانچ کے نظام کو مزید مضبوط بنانا ہو گا -ان کامزید کہنا تھاکہ پولیس کو ٹھیک کرنے کے لئے ایمرجنسی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے – صرف معطلیاں کافی نہیں بلکہ غفلت اور کوتاہی برتنے والوں کو ملازمت سے برطرف کیا جائے – اب کسی سے کوئی رعائت نہیں ہو گی – اس معاملے کو مد نظر رکھتے ہوئے وزیر اعلی پنجاب نے چونیاں میں اضافی نفری تعینات کرنے کا حکم دیا ہے – انہوں نے کہا ہے کہ ایسے واقعات کو رونماہونے سے روکنا ضروری ہے -بچوں کے قتل میں ملوث ملزمان کو جلد سے جلد گرفتارکیا جائے ۔مجھے ملزمان کی گرفتاری چاہیے، زبانی جمع خرچ نہیں چلے گا۔ایسے اندوہناک واقعات کسی بھی صورت برداشت نہیں کئے جاسکتے۔ مقتول بچوں کے خاندانوں کو انصاف کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے گی-بچوں کے قتل میں ملوث ملزمان قانون کے مطابق عبرتناک سزا سے نہیں بچ پائیں گے-ایسا گھناؤنا جرم کرنے والے کسی رعائت کے مستحق نہیں -انسانیت سوز واقعہ ہم سب کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔میرا فرض اور ذمہ داری ہے کہ متاثرہ خاندانوں کو فوری طور پر انصاف ملے۔ واقعہ کی تحقیقات کے لئے اعلیٰ سطح کی جے آئی ٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ کیس میں انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں گے۔وزیراعلی پنجاب نےکہا ہے کہ اب میں کیس پر ہونے والی پیش رفت کی ذاتی طور پر نگرانی کروں گا۔وزیراعلیٰ نےغمزدہ خاندانوں سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے جبکہ اس موقعے پر صوبائی وزراء راجہ محمد بشارت، ہاشم ڈوگر،سردار آصف نکئی،انصر مجیدخان،چیف سیکرٹری،آئی جی پولیس، ایڈیشنل چیف سیکرٹری،ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ،پرنسپل سیکرٹری وزیراعلیٰ،سیکرٹری اطلاعات اوراعلی حکام کی اجلاس میں شریک تھے ۔
؀ریک تھے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…