اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

ماں کے منجمد شدہ بیضے سے بچے کی پیدائش

datetime 10  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک ) بیلجیئم میں ایک خاتون نے اپنی بیضہ دانی کے 15 برس قبل منجمد کیے گئے ٹشوز کی پیوند کاری کے نتیجے میں ایک صحت مند بچے کو جنم دیا ہے۔وہ دنیا کی پہلی ایسی خاتون ہیں جن پر یہ کامیاب تجربہ کیا گیا ہے ہے۔یہ کارنامہ طبی طور پر بیضہ الرحم کے خلیوں کی بحالی کے بعد ہوا اور ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس کامیابی سے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ مزید سینکڑوں نوجوان خواتین جو ایسے عمل سے گزرتی ہیں وہ بچہ پیدا کرنے کے قابل ہو سکیں گی۔خیال رہے کہ مذکورہ خاتون جب صرف 13 سال کی تھیں تو کیموتھراپی سے قبل ان کی بیضہ دانی نکال لی گئی تھی جس کے بارے میں یہ خدشہ تھا کہ اس عمل کے دوران اسے نقصان پہنچ سکتا ہے۔اس بیضہ دانی کو محفوظ رکھنے کے لیے منجمد کر دیا گیا تھا۔بیلجیئم کی اس خاتون کا نام ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔ جب وہ پانچ سال کی تھی تو انھیں سکل سیل انیمیا (ایک قسم کا سرطان) ہوگیا تھا اور 13 سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے ان کی حالت اتنی خراب ہو چکی تھی کہ برسلز میں ڈاکٹروں نے بون میرو ٹرانسپلانٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔ایسے میں کیموتھراپی اور ریڈیو تھراپی دیے جانے سے قبل مریض کے مدافعتی عمل کو بند کر دیا جاتا ہے کہ وہ نئے خلیوں کو مسترد نہ کردے۔ایسے عمل میں عام طور پر مریضہ کی بیضہ دانی کام کرنا بند کر دیتی ہے اور وہ بانجھ ہو جاتی ہیں۔ڈاکٹروں نے اس لڑکی کی داہنی بیضہ دانی نکال لی اور ان کے خلیوں کے درجنوں ٹکڑوں کو منجمد کر دیا۔بیلجیم کی خاتون میں ان کے بچپن کے نکالے گئے خلیوں کی پیوند کاری کی گئی ایک دہائی بعد جب اس خاتون نے ماں بننے کی خواہش ظاہر کی تو برسلز کے ایرازمے ہسپتال میں گائناکولوجسٹ ڈاکٹر ایزابیلا دیمیستیر نے ان کی عمل تولید کی اہلیت کو بحال کرنے کی کوشش شروع کی۔پہلے ان کے بیضہ الرحم کے منجمد خلیوں کو بحال کیا گیا پھر ان کے بائیں بیض?الرحم کے متاثرہ خلیوں کی پیوند کاری کی گئی کیونکہ علاج کے دوران انھوں نے کام کرنا بند کر دیا تھا۔ان سب کے نتیجے میں ان کے ہارمون میں تبدیلی آئی اور پختہ تخم کے غدود والی چھوٹی تھیلیاں بنیں اور پھر انھیں حیض آنے لگا۔ان تمام طبی مداخلتوں کے دو سال بعد وہ 27 سال کی عمر میں حاملہ ہوئیں۔اطلاعات کے مطابق ان کی پیدائش کونگو میں ہوئی تھی لیکن جب وہ 11 سال کی تھیں تو وہ بیلجیئم منتقل ہو گئیں۔گذشتہ سال نومبر میں وہ ایک صحت مند بچے کی ماں بنیں جس کا وزن سات پونڈ سے قدرے کم تھا۔یہ رپورٹ انسانی عمل تولید کے جریدے ’ہیومن ریپروڈکشن‘ میں شائع ہوئی ہے اور اس کی تعریف کرتے ہوئے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس سے سینکڑوں نوجوان مریضوں میں امید کی کرن دوڑ گئی ہے کہ ایک دن وہ بھی اپنے بچے پیدا کر سکیں گی۔سائنسدانوں نے اس کامیابی کو ’اہم‘ اور ’دلچسپ‘ قرار دیا ہےڈاکٹروں کے مطابق مستقبل میں جو لڑکیاں لوکیمیا، سیکل سیل اور سارکوما جیسی بیماریوں سے نبرد آزما ہوں گی انھیں عام طور پر بیضہ دانی کو محفوظ کرنے کا متبادل پیش کیا جائے گا تاکہ ایک دن ان کا اپنا کنبہ ہو سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…