جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

بھارتی پنجاب میں کشمیریوں کی حمایت میں احتجاجی دھرنے،مظاہرے پھوٹ پڑے،مودی کے پتلے نذ ر آتش،دھڑا دھڑ گرفتاریاں

datetime 17  ستمبر‬‮  2019 |

نئی دلی(این این آئی)محصور کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے بھارتی ریاست پنجاب کے دارالحکومت چندیگڑھ میں مجوزہ ریلی میں شرکت کے لیے جانے والے ہزاروں افرادکو پولیس کی طرف سے روکنے پر مظاہرین نے احتجاجی دھرنے دیے اوربھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے پتلے نذر آتش کئے۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق موہالی میں بھی کسانوں اور طلباء کی مختلف یونینوں سے

وابستہ خواتین سمیت درجنوں کارکنوں کو احتجاجی مارچ میں شرکت سے روکنے کے لیے گرفتارکیاگیا۔ بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ان گروپوں نے پنجاب کے گورنر وی پی سنگھ بڈنورکے لیے ایک یادداشت تیار کی تھی جس میں دفعہ 370 اور35Aکی بحالی، کشمیریوں کے لیے حق خودارادیت اورمقبوضہ کشمیر میں کالے قانون آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ کی منسوخی کا مطالبہ کیاگیا ہے۔ بھارتی حکومت کی طرف سے مظاہرین کو موہالی پہنچنے سے پہلے روکنے کا فیصلہ اس کے لیے الٹا پڑ گیا کیونکہ ہزاروں افراد نے وہیں پر دھرنا دیا جہاں پر ان کو روکا گیا۔ زیادہ تر دھرنے جنوبی پنجاب کے اضلاع بھٹنڈا، منسا، فریدکوٹ،مختصر،سنگرور، فیروز پور اور برنالہ میں دیے گئے جبکہ موہالی اور ترن تارن میں مظاہرین نے بھارتی وزیر اعظم کے پتلے بھی نذر آتش کردیے۔پنجاب پولیس کی طرف سے چندیگڑھ کی طر ف مارچ کوموہالی میں روکنے کے بعداسی طرح کے مظاہرے گیارہ اضلاع کے 23مقامات پر کئے گئے۔ امن کے لیے کام کرنے والے ایک کارکن ہمنشو کمار نے کہاکہ بھارتی حکومت نے جس طرح دفعہ 370اور35A کو منسوخ کیا یہ بھارتی آئین اور پارلیمانی جمہوریت کے منافی اور کشمیری عوام کے انسانی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے یہ بات موہالی میں پولیس کی طرف سے احتجاجی مارچ کو روکنے کے بعدصحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہاکہ یہ بھارتی حکومت کی طرف سے عوام پر ایمرجنسی سے بھی بڑا حملہ ہے۔ مارچ میں پنجاب سٹوڈنٹس یونین، نوجوان بھارت سبھا، کسان سنگھرش کمیٹی، پینڈو مزدوریونین اور دیگر صنعتی کارکنوں کی تنظیموں کے کارکن شامل تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…