پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

وکیل کے لیڈی کانسٹیبل کو تھپڑ مارنے کے واقعہ کا ڈراپ سین،ایسا فیصلہ ہوگیا کہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا، حیرت انگیز صورتحال

datetime 16  ستمبر‬‮  2019 |

لاہور(آن لائن)  فیروزوالہ میں وکیل کا لیڈی کانسٹیبل کو تھپڑ مارنے کا معاملہ وکیل کے معافی مانگنے پر رضامندی کے بعد سلجھ گیا ہے۔ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) شیخوپورہ اور وکلا میں کامیاب مذاکرات کے بعد معاملات طے پا گئے ہیں اور وکلاء   نے کچہری فیروزوالہ میں ہڑتال ختم کرتے ہوئے پولیس کو کچہری میں داخلے کی اجازت دے دی ہے۔فیروزوالہ کچہری میں منگل سے عدالتی امور معمول کے مطابق دوبارہ شروع ہو جائیں گے۔

وکلا اور پولیس کے درمیان ہونے والے سمجھوتے کی رو سے فیروزوالہ ڈی پی او شیخوپورہ صلاح الدین سیالوی نے ڈی ایس پی فیروزوالہ اور ایس ایچ او فیروزوالہ کو تبدیل کرنے کا مطالبہ مان لیا ہے جبکہ ایڈووکیٹ احمد مختار نے لیڈی کانسٹیبل فائزہ سے معذرت پر رضامندی ظاہر کی ہے۔واضح رہے کہ وکیل احمد مختار کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بننے والی لیڈی کانسٹیبل فائزہ نوازوکیل کی جانب سے تھپڑ مارنے کے واقعہ پر اپنا موقف بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ کہ جب عزت نفس پر حملہ ہو تو کوئی لڑکی خاموش نہیں رہتی۔ان الزامات پر کہ وہ اس معاملے پر سیاست کر رہی ہیں انہوں نے واضح کیا تھا کہ میں سیاست نہیں کر رہی اور نہ ہی اپنے محکمے کی طرف سے بول رہی ہوں۔فائزہ نے اس واقعہ کے بعد نوکری سے استعفیٰ بھی دے دیا تھا۔تھپڑ مارنے کے واقعے کے حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے فائزہ نواز کا کہنا تھا کہ دوپہر ایک بجے ڈیوٹی پر تھی کہ وکیل صاحب نے مرکزی دروازے پر آکر گاڑی روک دی۔’میں نے وکیل سے کہا کہ آپ پڑھے لکھے ہیں تاہم اتنے میں وکیل نے تھپڑ مار دیا۔‘لیڈی کانسٹیبل کے مطابق وکیل کو ساتھی اہلکار نے کہا کہ گاڑی آگے کھڑی کریں جس پر انہوں نے بدتمیزی کی، غصے میں آ گئے اور گالیاں دینا شروع کر دیں۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے بچانے والا کوئی نہیں تھا، میں ڈی ایس پی کے دفتر گئی اور سارا واقعہ بتایا تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ اپنے محکمے کے خلاف ہوں۔فائزہ کی تھپڑ مارنے والے وکیل کو گرفتار کرکے ہتھکڑیوں میں لے جانے کی تصویر سوشل میڈیا پر بہت مقبول ہوئی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…