بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

امریکہ کے انکار کے بعد طالبان رہنما روس پہنچ گئے، دھماکہ خیز پیش رفت

datetime 14  ستمبر‬‮  2019 |

ماسکو (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ کے ساتھ تمام معاملات طے پا جانے کے باوجود معاہدے کو منسوخ کر دینے کے بعد طالبان نے روس سے رابطہ کیا ہے، امریکہ کے انکار کے بعد طالبان کا ایک وفد روس پہنچ چکا ہے جہاں پر طالبان وفد کی ملاقات روس کے صدر کے نمائندے سے ہوئی ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے پینترا بدلا تو دوسری جانب طالبان نے بھی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے روس سے رابطہ کر لیا ہے،

طالبان کے رہنما ملا شیر عباس نے کہا کہ جب بھی ہم کسی نتیجے پر پہنچتے ہیں تو امریکہ مذاکرات سے فرار ہو جاتا ہے، ملا شیر عباس نے کہا کہ افغانستان پر ہم نے نہیں امریکہ نے جنگ مسلط کی، انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے ہزاروں لوگ امریکہ مار سکتا ہے تو ہم بھی ان کے ایک دو لوگ مارنے کا حق رکھتے ہیں، انہوں نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ مذاکرات نہیں چاہتاہے تو ٹھیک ہے ہم بھی سو سال تک لڑ سکتے ہیں۔ دوسری جانب روس نے امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات ختم ہونے پر تشویش کا اظہارکر تے ہوئے زور دیا ہے کہ عسکریت پسندوں سے امن بات چیت فوری شروع کی جائے۔روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زخارو وانے جاری بیان میں کہا روس کو امریکا اور طالبان کے درمیان جاری امن مذاکرات کے خاتمے پر تشویش ہے۔ماسکو افغانستان میں امن اور خوشحالی چاہتا ہے۔امریکا کو چاہیے تو کہ وہ جنگ کے بجائے عسکریت پسندوں سے فوری مذاکرات کرے تاکہ افغانستان میں طویل جنگ ختم ہو اور امن قائم ہوسکے۔افغان طالبان نے ایک مرتبہ پر امریکا کو خبردار کیا ہے کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ سمجھنے میں ناکام ہوئے ہیں کہ وہ کس قوم سے الجھ رہے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے امریکی صدر کو ٹوئٹ میں کہا کہ ٹرمپ بہت احتیاط برتنا۔انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کو ابھی تک یہ سمجھنے میں دشواری ہے کہ وہ کس قسم کی قوم سے الجھ رہے ہیں۔ذبیح اللہ مجاہد نے مزید کہا کہ ٹرمپ کے مشیران کو انہیں سمجھنا چاہیے کہ افغانستان ان کے لیے امارات قبرستان ثابت ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…