پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

کراچی پر وفاق کاکنٹرول،حکومت نے طریقہ کار کا اعلان کردیا،دھماکہ خیز فیصلے

datetime 12  ستمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی) وفاقی وزیرقانون فروغ نسیم نے کہا ہے کہ کراچی پر وفاق کے کنٹرول کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے۔ایک انٹرویومیں وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بنائی جا نے والی اسٹرٹیجک کمیٹی کے سربراہ وفا قی وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے کراچی سمیت پو رے سندھ کو تباہ و برباد کردیا ہے۔فروغ نسیم نے کہا کہ آرٹیکل 149 (4)کے تحت وفاق کی جانب سے کراچی کو کنٹرول کرنے کے لیے سندھ حکومت سے درخواست کریں گے

اگر سندھ حکومت نہیں مانتی توپھر سپر یم کورٹ سے رجوع کیا جائے گا، کراچی کو بہتر کرنے کے لیے سخت فیصلے کرنا ہوں گے، اب کراچی کے حوالے سے مداخلت کرنا ضروری ہوگیا ہے، قانو نی طور پر ایک مسودہ تیا ر کر رہے ہیں جو ہفتے کو وزیراعظم کے سامنے پیش کریں گے کیو نکہ کر اچی میں کچرا اٹھ رہا ہے، پبلک ٹرانسپورٹ اور نہ ہی انفرااسٹرکچرمو جود ہے۔فروغ نسیم نے کہاکہ 11 سال میں پیپلزپارٹی کی حکومت نے کراچی، لاڑکا نہ، کنڈیارو سمیت تمام شہروں دیہات کو تباہ و برباد کردیا ہے اب ضر وری ہوگیا ہے کہ وفاق اس میں مداخلت کرے ہم تمام آئینی اور قانونی راستے اختیار کریں گے وزیر اعظم کو کراچی کے حالا ت پر تشویش ہے اس لیے انہوں نے وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب کیا تھا جس میں فیصلے کے مطابق کراچی کے حالات بہتر کر نے کیلئے ایک اسٹرٹیجک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس کا مجھ کو سر براہ بنا یا گیا ہے۔وفا قی وزیر کے مطابق وزیراعظم ہفتے کو کر اچی کا دورہ کریں گے اس سلسلے ایک ڈرافٹ تیار کیا جارہاہے جو وزیراعظم کے سامنے پیش کیا جائے گا جس میں آرٹیکل 149(4)کے تحت سندھ حکومت سے درخو است کی جائے گی کہ شہر کے حالات خراب ہیں اور ہم اس کا کنٹرول چا ہتے ہیں یہ مسودہ وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد پیش کیا جائے گا اگر سندھ حکومت ایسا کرنے نہیں دیتی تو پھر آرٹیکل 141 کے تحت سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے گا۔وزیر قانون نے کہاکہ مسئلہ یہ ہے کہ کراچی پورے سندھ میں کتنا ریونیو دیتا اور کراچی پر خرچ کتنا ہوتا ہے

اس کی تناسب متوازن نہیں ہے اگر 11 سال میں کچھ خرچ نہیں ہو یا ترقی کے لیے خرچ نہیں ہورہا ہو اور مردم شماری بھی غلط ہو اور ایک کروڑ 60 لاکھ کے حساب سے بھی اس پر خرچ نہیں کیا گیا تو 18 ویں ترمیم کے بعد کیا آئینی ترکیب ہو اس کے لیے وزیراعظم نے فروغ نسیم کو کمیٹی میں شامل کیا ہے،کمیٹی میں 6 اراکین پاکستان تحریک انصاف اور 6 اراکین متحدہ قومی موومنٹ سے ہیں اور ایف ڈبلیو او سے بھی ہیں۔فروغ نسیم کے مطابق کمیٹی میں مجھے ڈالنے کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ مختصردورانیے، درمیانی اور طویل دورانیے کی حکمت عملی کیا ہو کہ کراچی میں اور مقامی حکومت پر کیسے خرچ ہواس کا حل نکالنا ہے۔میئر کراچی کے اختیارات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ یہ میئر اور منتخب اراکین سے اختیارات کی منتقلی 140 اے اور آرٹیکل 17 سے متصادم ہے اور اب اس کے اندر سپریم کورٹ کا کردار ہونا ہے اور سپریم کورٹ نے وضاحت دینی ہے اس حوالے سے مقدمہ عدالت میں زیرالتوا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…