پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

انصاف کے دعوے ہوا میں اُڑ گئے،وکیل کے مبینہ تشدد کا نشانہ بننے والی لیڈی کانسٹیبل فائزہ گھر والوں سمیت غائب،انتہائی افسوسناک انکشافات‎

datetime 9  ستمبر‬‮  2019 |

فیروزوالا (مانیٹرنگ ڈیسک) فیروز والا میں لیڈی کانسٹیبل فائزہ انصاف نہ ملنے پر دلبرداشتہ، ویڈیو بیان دینے کے بعد گھر کو تالہ لگا کر غائب ہو گئی۔ ایک نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق لیڈی کانسٹیبل فائزہ کے گھر پر تالہ لگا ہوا ہے اور وہ اپنے گھر والوں سمیت غائب ہے۔ اس کے بارے میں کسی کو کچھ پتہ نہیں کہ وہ کہاں ہے۔ پولیس بھی اس حوالے سے بے خبر ہے۔

یاد رہے کہ وکیل کے مبینہ تشدد کا نشانہ بننے والی خاتون کانسٹبل فائزہ نواز نے کہا ہے کہ وہ پاکستان کی خواتین کو انصاف دلانے کے جذبے کے ساتھ پولیس کے محکمے میں آئی تھی۔شیخوپورہ میں وکیل احمد مختار کے مبینہ تشدد کا نشانہ بننے والی خاتون کانسٹبل فائزہ نواز نے ایک انٹرویومیں کہا کہ میں ہمت ہارگئی تو کل کوئی شہری اپنی بیٹی کو پولیس کے شعبے میں کام کرنے نہیں بھیجے گا۔فائزہ نواز نے کہا کہ وکلا کے دباؤ میں آکر ایف آئی آر کمزور کی گئی، وکلا کا دباؤ پولیس والوں کو خاموش رہنے پر مجبور کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پوری ہمت اور جرات کے ساتھ کیس کی راہ میں آنے والی تمام مشکلات کا سامنا کروں گی۔واضح رہے کہ گزشتہ روز لیڈی کانسٹیبل نے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ طاقت کے زور پر وکیل نے مجھ پر تشدد کیا، وکلا نے پہلے تو بدکلامی کی، اب تو انتہا کردی ہے۔انہوں نے کہاکہ میرے وکیل بھائی ہی میری کردار کشی کر رہے ہیں، میں ذہنی طور پر بہت زیادہ پریشان اور خوفزدہ ہوں۔فائزہ نواز نے کہا کہ میں پاور فل مافیا کا سامنا نہیں کر سکتی، اپنی عزت اور مستقبل کے حوالے سے بھی بہت پریشان ہوں، میں اس غیر منصفانہ اور ظالم نظام سے دلبرداشتہ ہو چکی ہوں۔ دوسری جانب ڈی پی او شیخوپورہ صلاح الدین غازی نے کہا ہے کہ لیڈی کانسٹیبل فائزہ نواز نے کوئی استعفیٰ نہیں دیا اس نے بس یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر محکمہ اس کا ساتھ نہیں دے گا تو وہ اپنی ڈیوٹی سے مستعفی ہو جائیں گی۔

لیکن پوری پنجاب پولیس فائزہ نواز کیساتھ کھڑی ہے ایک کانسٹیبل سے لے کر آئی جی پنجاب سب کے سب ہی فائزہ نواز کے ساتھ ہیں اور محکمہ پولیس کبھی بھی اسے تنہا نہیں چھوڑے گی۔ان باتوں کا اظہا ر انہوں نے نویں محرم الحرام کے دن سکیورٹی چیکنگ والی خراسان بر لب نہر داوکے پر کیا۔انہوں نے مزیدکہا کہ عوام، لیڈی و جینٹس کانسٹیبل یا کوئی آفیسر ہو ان کا تحفظ کرنا پنجاب پولیس کی ذمہ داری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…