پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

بے روزگار نوجوانوں کو لوٹنے کا نیا دھندہ شروع، ٹیسٹ کے نام پر ہزاروں نوجوانوں سے فیس وصول کرکے ”مال“بنایاجانے لگا،افسوسناک انکشافات

datetime 8  ستمبر‬‮  2019 |

کراچی (آن لائن)پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ ٹیسٹنگ سروسز بے لگام ہوتی جا رہی ہیں۔ بے روزگار نوجوانوں سے300 سے1500 روپے فیس وصول کی جاتی ہے۔ یہ صورتحال روزگار کے نام پر لوٹ مار ہے۔ ٹیسٹ کے انعقاد کے بعد پوسٹیں کینسل کر کے دوبارہ مشتہر کی جا رہی ہیں۔ جس کے نتیجے میں نوجوانوں کو روزگار کے بدلے خواری مل رہی ہے اور ان کی جیبیں خالی ہو رہی ہیں۔

اس سلسلے میں میرٹ کے نفاذ کو قائم رکھتے ہوئے نئے قوانین اور قواعدو ضوابط وضع کئے جائیں۔ ٹیسٹنگ سروسز کو بے روزگار نوجوانوں سے لوٹ مار  کرنے سے  روکا جائے۔ پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں الطاف شکور نے کہا کہ ملک میں بے روزگاری ایک خوفناک مسئلہ بن کر جنم لے رہی ہے۔ نوجوان ڈگریاں تھامے گھوم رہے ہیں اور انہیں معیار اور اہلیت کے باوجود روزگار دستیاب نہیں۔ ملک میں آج کل ٹیسٹنگ سروسز فعال ہیں۔ این ٹی ایس، بی ٹی ایس، او ٹی ایس اور سی ٹی ایس پی و دیگر ناموں سے ایک کاروبار وجود میں آگیا ہے جو درخواست دہندگان سے بھاری فیس بینکوں میں جمع کرانے کا اعلان کر کے بھاری رقم وصول کر لیتے ہیں۔ 10یا20 پوسٹوں کے لئے ہزاروں نوجوان فیس جمع کراتے ہیں۔ ٹیسٹ کے انعقاد کے بعد ان پوسٹوں کو کینسل کر دیا جاتا ہے اور کچھ عرصے کے بعد پھر سے ان پوسٹوں کو مشتہر کر دیا جاتا ہے اور بھاری فیس وصول کرنے کا سلسلہ پھر سے شروع کر دیا جاتا ہے۔ الطاف شکور نے کہا کہ پوسٹ کینسل کرنے کی صورت میں درخواست دہندگان کو رقم واپس کی جائے۔ آج کے نوجوان ملک کے مستقبل کے معمار ہیں اگر انہیں ملازمتوں کے حصول کے لئے بھاری رقومات خرچ کرنی، جوتے گھسانے اور کئی طرح کے پاپڑ بیلنے کا سلسلہ جاری رہا تو وہ ملازمتیں حاصل کر کے عوام سے لوٹ مار کی طرف راغب ہوں گے۔ ملک سے جرائم، چوری، ڈکیتی کے خاتمے کے لئے بھی ضروری ہے کہ بے روزگاری کے خاتمے کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…