اتوار‬‮ ، 12 اپریل‬‮ 2026 

حکومت اپنے مالی معاملات کو درست سمت پر چلانے میں ناکام،پاکستان کا مالی خسارہ 3.445کھرب روپے تک پہنچ گیا،اب کیا ہوگا؟انتہائی خطرناک پیش گوئی کردی گئی

datetime 6  ستمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر احمد حسن مغل، سینئر نائب صدر رافعت فرید اور نائب صدر افتخار انور سیٹھی نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ پاکستان کا مالی خسارہ30 جون 2019 کو ختم ہونے والے مالی سال میں بڑھ کر 3.445کھرب روپے تک پہنچ گیا ہے جو مجموعی قومی پیداوار کا 8.9فیصد ہے اور ایک تاریخی اضافہ ہے

لہذا انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام غیر ضروری اخراجات کو کم کرنے کیلئے ہنگامی بنیادو ں پر اقدامات اٹھائے کیونکہ مالی خسارے میں ریکارڈ اضافہ معیشت کو مزید کمزور کرے گا جس سے عوام اور تاجر برادری مزید مشکلات کا شکار ہو گی اور ملک مسائل کی دلدل میں دھنستا چلا جائے گا۔ احمد حسن مغل نے کہا کہ مالی سال 2018-19 کے دوران ملک کے ریونیو میں کمی اور اخراجات میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے جو اس بات کا عکاس ہے کہ حکومت معیشت کو بحرانی کیفیت سے نکالنے میں ابھی تک کامیاب نہیں ہو سکی۔ انہوں نے کہا کہ 2018-19میں ترقیاتی اخراجات میں 45فیصد کمی کے باوجود مالی خسارے میں ریکارڈ اضافہ باعث تشویش ہے کیونکہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت اپنے مالی معاملات کو درست سمت پر چلانے میں ابھی تک ناکام رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے سادگی کلچر کو اپنا کر غیر ضروری اخراجات کو کم کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن حقائق اس کے برعکس جا رہے ہیں لہذا انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اخراجات کو کم کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات لے۔آئی سی سی آئی کے صدر نے کہا کہ موجودہ حکومت نے اپنے پہلے سال میں ہی شرح سود میں تقریبا 77فیصد اضافہ کر دیا ہے کیونکہ جب پی ٹی آئی حکومت نے اقتدارسنبھالا تھا تو اس وقت شرح سود تقریبا 7.5فیصد تھا جو اب بڑھ کر 13.25فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شرح سود میں اتنے زیادہ اضافے سے کاروباری و صنعتی اداروں کیلئے بینکوں سے قرضہ حاصل کرنا مزید مہنگا ہو گیا ہے

جس سے نئی سرمایہ کاری رک گئی ہے جبکہ مہنگائی بڑھنے سے کاروباری سرگرمیاں بھی دن بدن کم ہو رہی ہیں اور معیشت کی ترقی متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت شرح سود پر نظرثانی کر کے اس کو نیچے لائے تا کہ قرضے سستے ہونے سے  کاروباری سرگرمیوں کو وسعت دینے میں سہولت ہو جس سے معیشت کیلئے متعدد فوائد پیدا ہوں گے کیونکہ اس سے کاروباری سرگرمیوں کو بہتر فروغ ملے گا، حکومت کے ٹیکس ریونیو میں اضافہ ہو گا، ملک کا مالی خسارہ کم ہو گا اور مہنگائی کم ہونے سے عوام کو بھی ریلیف ملے گا جس کی ان کو اس وقت اشد ضرورت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لفظ اضافی ہوتے ہیں


نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…