پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

کیا ضلعی سطح پر چائلڈ پروٹیکشن عدالتیں قائم کی جائیں گی ؟ عدالت نے فیصلہ سنا دیا

datetime 6  ستمبر‬‮  2019 |

پشاور( آن لائن )خیبرپختونخوا حکومت نے پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے ضلعی سطح پر چائلڈ پروٹیکشن عدالتیں قائم کرنے کی تجویز مسترد کردی۔ ہائی کورٹ کے رجسٹرار خواجہ وجیہہ الدین نے ایک پریس بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان اقوامِ متحدہ کے کنوینشن برائے حقوق اطفال کا پر دستخط کنندہ ہے۔

جس کے تحت بچوں کی بہتری کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے۔اس مقصد کے لیے ہائی کورٹ نے 2 مرتبہ صوبائی حکومت سے ضلعہ سطح پر چائلڈ پروٹیکشن عدالتیں قائم کرنے کی درخواست کی لیکن اسے مسترد کردیا گیا۔رجسٹرار کا مزید کہنا تھا کہ پشاور میں چائلڈ پروٹیکشن عدالت کے کامیابی سے کام کرنے بعد ہائی کورٹ نے مردان اور ایبٹ آباد میں 2 عدالتیں قائم کرنے کا فیصلہ کیا تھا جو رواں ماہ فعال ہوجاتیں۔نہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ نے مجوزہ خیبرپختونخوا جوڈیشل سروس ایکٹ پر محکمہ خزانہ کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کا بھی باضابطہ جواب دے دیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ مجوزہ قانون نومبر 2018 میں منظوری اور قانون سازی کے لیے حکومت کو بھجوایا گیا تھا جس کا مقصد ضلعہ عدلیہ کو حکومت سے مکمل طورپر علیحدہ کرنا اور اس میں عدالتی عملے کے لیے ایک سروس اسٹرکچر کی بھی تجویز دی گئی تھی۔تاہم حکومت نے 8 ماہ بعد بارہا یاد دہانی کے نوٹسز ارسال کرنے پر اعتراضات لگا کر اسے واپس کردیا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ آئین آزاد عدلیہ کی ضمانت فراہم کرتا ہے اور مجوزہ قانون کا مقصد بھی یہی تھا جو ہائی کورٹ میں ضلعی عدالتوں کو قانونی جواز فراہم کرتا۔رجسٹرار پشاور ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ ضلعی عدالتوں کو سب سے بڑا چیلنج قبائلی اضلاع کا خیبرپختونخوا میں انضمام ہے جس کی وجہ سے انسانی اور مالی وسائل پر دبا بڑھا ہے اور ضلعی عدلیہ کی کارکردگی بھی متاثر ہوئی۔ہائی کورٹ کی کارکردگی سے آگاہ سے کرتے ہوئے رجسٹرار نے بتایا کہ 3 سہہ ماہی کے دوران زیر التوا کیسز کی مجموعی تعداد 37 ہزار 952 سے کم ہو کر 36 ہزار 459 ہوئی ہے۔جس میں 24 ہزار 734 کیسز نئے دائر کیے گئے جبکہ 25 ہزار 938 کیسز ختم کردیے گئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…