جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

مسلم خواتین کیخلاف بیان،سکھ رکن پارلیمنٹ نے برطانوی وزیراعظم کی طبیعت صاف کردی

datetime 6  ستمبر‬‮  2019 |

لندن(این این آئی) برطانوی پارلیمنٹ کے سکھ رکن تن من جیت سنگھ نے حجاب کرنے والی مسلمان خواتین سے متعلق ’تضحیک آمیز اور نسل پرستانہ بیان دینے پر وزیر اعظم بورس جانسن سے معافی کا مطالبہ کردیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق برطانوی پارلیمنٹ میں لیبر پارٹی کے رکن تن من جیت سنگھ نے بورس جانسن کے نسل پرستانہ بیان کے خلاف پرجوش تقریر کی اور کہا کہ متعصبانہ رویہ جرائم میں اضافے کا

باعث بن رہا ہے۔واضح رہے کہ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے گزشتہ برس اپنے ایک کالم میں کہا تھا کہ برقع ظالم کی نشانی ہے اور یہ انتہائی مضحکہ خیز لگتا ہے کہ لوگ (مسلم خواتین) لیٹر باکس کی طرح چلتے پھیرتے نظر آئیں۔انہوں نے کہا کہ میں امید کرتا ہوں کہ (مسلم خواتین) چہرہ چھپائے بغیر مجھ سے مخاطب ہوں اور اسکول اور یونیورسٹی بھی اسی سوچ کو اپنائے، اگر ایک طالبہ مڑ کر آپ کو دیکھے جو بینک ڈاکوؤں کی طرح لگ رہی ہو۔لیبر پارٹی کے لیڈر جیریمی کوربن نے تن من جیت سنگھ کی ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ہر شخص کو یہ ناقابل یقین لمحات دیکھنے چاہیے۔برطانوی پارلیمنٹ میں تن من جیت سنگھ نے اپنے خطاب کے آغاز میں پارلیمنٹ کے اسپیکر سے کہا کہ اگر میں نے بگڑی کا انتخاب کیا تو آپ نے صلیب کو منتخب کیا، اس نے کپا پہنی اور انہوں نے حجاب یا برقع پہننے کو پسند کیا۔انہوں نے کہا کہ تو کیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ پارلیمنٹ میں تمام معززین کو یہ حق مل گیا کہ وہ ہماری شخصیت پر توہین آمیز جملے کہیں۔برطانوی پارلیمنٹ میں تن من جیت سنگھ نے کہا کہ ہم اپنے اوائل عمری سے ٹاول ہیڈ، طالبان اور ترقی پذیر خصوصاً افریقی مملک سے آئے لوگ‘ جیسے تکلیف دہ نام سنتے آئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم پہلے سے غیر محفوظ مسلمان خواتین کے درد اور تکلیف کو بھر پور انداز میں محسوس کرسکتے ہیں جب ان کی شخصیت کو بینک ڈاکو اور لیٹر باکس سے تشبیہہ دی جائے۔

سکھ رکن نے بورس جانسن پر زور دیا کہ شرمندگی یا جھوٹی تحقیقات کے پیچھے چھپنے کے بجائے وزیراعظم آخر کب اپنے توہین آمیز اور نسل پرستانہ جملوں پر معافی مانگیں گے تن من جیب سنگھ کے بیان پراپوزیشن نشستیں تالیوں کی گونج اٹھیں۔انہوں نے اسپیکر کو مخاطب کیا اور کہا کہ نسل پرستانہ بیان سے نفرت بڑھی۔سکھ رکن نے

پھر بورس جانسن سے متعلق کہا کہ آخر کب وزیراعظم اسلاموفوبیا سے متعلق تحقیقات شروع کرائیں گے؟ جس کے بارے میں انہوں نے اور ان کے چانسلر نے سرکاری ٹی وی پر وعدہ کیا تھا۔واضح رہے کہ جون میں بورس جانسن نے کہا تھا کہ ان کی پارٹی تمام اقسام کے معتصبانہ رویوں کی عمومی تحقیقات کرائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…