بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

بھارتی سپریم کورٹ نے محبوبہ مفتی کی بیٹی کو ملنے کی اجازت دیدی مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر اعلی کی بیٹی نے سرینگرمیں آزدانہ نقل وحرکت کی اجازت بھی مانگی جسے عدالت نے رد کردیا

datetime 5  ستمبر‬‮  2019 |

نئی دہلی( آن لائن )بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی صاحبزادی ثناالتجا جاوید کو اپنی نظر بند والدہ سے ملنے کی اجازت دے دی ہے. کچھ روز قبل محبوبہ مفتی کی بیٹی ثناالتجا کی جانب سے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ وہ اپنی والدہ کی صحت کے حوالے سے کافی پریشان ہیں، انہیں اپنی والدہ سے ملاقات کیے ہوئے

تقریباًایک ماہ ہوگیا ہے۔ثناالتجا جاوید نے کورٹ سے التجا کی کہ انہیں والدہ سے ملنے دیا جائیوالدہ سے ملنے کی درخواست پر حکومت نے انہیں کہا کہ اگر وہ ضلعی مجسٹریٹ سے رجوع کرتی ہیں تو انہیں محبوبہ مفتی سے ملنے کی اجازت ہوگی، جنہیں سری نگر کے قریب چشم شاہی میں نظربند کیا گیا ہے  چیف جسٹس نے ثناالتجا سے سوال کیا کہ آپ کو چنائے سے سری نگر جانے سے کون روکتا ہے؟ کیا رکاوٹ ہے؟ جس کا جواب دیتے ہوئے ثنانے کہا کہ انہیں چنائے جانے کی اجازت تو ہے لیکن سری نگر میں آزادانہ نقل و حرکت کرنے کی اجازت نہیں ہیانہوں نے کہا کہ وہ اپنی والدہ سے اکیلے میں ملنا چاہتی ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ انہیں سری نگر میں کہیں بھی آنے جانے کی آزادی دی جائے.چیف جسٹس نے کہا کہ ثناجاوید کو ان کی والدہ سے ملنے کی اجازت ہے لیکن جہاں تک بات سری نگر میں آزادی کے ساتھ گھومنے کی تو اس کی اجازت وہاں کی انتظامیہ دے گی. واضح رہے کہ مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر کے دو سابق وزرااعلی محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ سمیت 100 راہنماں کو حراست میں لیا ہوا ہے. محبوبہ مفتی کی بیٹی ثنا التجانے ایک ماہ قبل بھارتی وزیر داخلہ کو وائس میسج اور خط بھیج کر جان کے خطرے سے آگاہ کیا تھا، انہوں نے وائس میسج میں بتایا تھا کہ والدہ کی گرفتاری کے بعد انہیں بھی نظر بند کر دیا گیا ہے جبکہ انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…