بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

ملک بھر میں خودکشی کے رحجان میں تشویشناک حد تک اضافہ ، ایک سال میں خواتین سمیت کتنے ہزار افراد نے اپنے ہاتھوں جانیں لے لیں، رپورٹ میں ہوشربا انکشافات

datetime 5  ستمبر‬‮  2019 |

لندن (این این آئی)انسانی حقوق کی تنظیم کی سالانہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک بھر میں خودکشی کے رحجان میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔انسانی حقوق کی تنظیم کی حالیہ رپورٹ کے مطابق سال 18-2017 کے دوران ملک بھر میں خودکشی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

ایک سال میں 950 خواتین سمیت دو ہزار 258 افراد نے اپنے ہاتھوں اپنی جانیں لے لیں۔بیشتر افراد نے نامساعد حالات، غربت اور گھریلو جھگڑوں سے تنگ آکر اپنی زندگی ختم کرلی جبکہ گزشتہ سال بھی یہ حالات بھی کچھ زیادہ مختلف نہیں تھے، جس میں 550 خواتین سمیت ایک ہزار 541 افراد نے خودکشی کی تھی۔رپورٹ کے مطابق رواں سال جنوری سے مئی تک، 5 ماہ کے عرصے میں بھی خودکشی کے 596 واقعات رپورٹ ہوئے جن میں 216 خواتین بھی شامل ہیں جبکہ ایسے افراد کی تعداد کہیں زیادہ ہے جنہوں نے خودکشی کی کوشش کی تاہم بروقت طبی امداد دے کر انہیں بچالیا گیا۔انسانی حقوق تنظیم کے اعدادوشمار کے مطابق ملک میں اوسطاً 12 سے 150 افراد ہر ماہ اپنے ہاتھوں اپنی جان لے رہے ہیں۔ بیشتر واقعات میں پھندے سے لٹک کر یا زہریلی دوا پی کر خودکشی کی گئی ہے۔دوسری جانب انسانی حقوق کے کارکنوں کا دعویٰ ہے کہ خودکشی کے بعض واقعات بعد میں قتل بھی ثابت ہوتے رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق زہنی دبائو چاہے معاشی پریشانی کا ہو یا برے حالات سے نمٹنے میں ناکامی کا، خودکشی کی سب سے بڑی وجہ ثابت ہوتا ہے۔معاشرے میں اپنی زندگیوں کے خاتمے کے رحجان سے نمٹنے کیلئے سائنسی بنیادوں پر حل نکالنے کے علاوہ ایسے معاملات کی تفتیش کیلئے پولیس کو بھی جدید تربیت کی ضرورت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…