پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

بھارت نے عملاً جنگ کا آغاز کر دیا، بھارت خطے کا تھانیدار بننا چاہتا ہے، پاکستان اس کی راہ میں رکاوٹ ہے، کشمیر کے مستقبل کے حوالے تھنک ٹینک کانفرنس میں بڑا دعویٰ سامنے آ گیا

datetime 5  ستمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(این این آئی)آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ ہے کہ ہم حالت جنگ میں ہیں کیونکہ بھارت نے عملاً جنگ کا آغاز کر دیا ہے جو طویل بھی ہو سکتی ہے اور اس کے پورے خطے کے لئے بھیانک مضمرات بھی ہو سکتے ہیں۔ مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی قابض فوج کی طرف سے کشمیریوں کے خلاف مظالم کی نئی لہر کے بعد بڑے پیمانے پر مقبوضہ کشمیر سے شہری آبادی کے انخلاء اور مہاجرین کی آزادکشمیر میں آمد کو خارج از امکان نہیں قرار دیا جا سکتا

جس کے لئے ہمیں تیاری کرنی ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار انہو ں سنٹر فار ایروسپیس اینڈ سکیورٹی سٹیڈیز کے زیر اہتمام کشمیر کے مستقبل کے حوالے سے تھنک ٹینک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صدر آزادکشمیر نے کہا کہ لوگ ہم سے پوچھتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کے تنازعہ پر جنگ ہو سکتی ہے یا نہیں تو میرا جواب یہی ہوتا ہے کہ بھارت اس جنگ کا آغاز کر چکا ہے بھارتی حکمرانوں نے سوچ سمجھ ایک پالیسی اختیار کر لی ہے جس کے تحت وہ اپنے مسلمانوں شہریوں، پاکستان اور کشمیریوں کو اپنا دشمن قرار دے کر ان کے خلاف اقدامات شروع کر چکاہے۔ بھارت خطے کی بڑی معاشی اور فوجی قوت بن کر تھانیدار کا کردار ادا کرنا چاہتا ہے اور وہ پاکستان کو اپنے عزائم کی راہ میں رکاوٹ سمجھتا ہے اس لئے وہ ہر صورت میں پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتا ہے۔ بھارتی حکومت کی طرف سے پانچ اگست کے اقدامات پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ بھارت کی جانب سے پاکستان او رکشمیریوں کے خلاف ایک منظم حملہ ہے اس کا مقصد تنازعہ کشمیر کو طاقت کے ذریعے ختم کرنا اور کشمیریوں کی آواز کو ہمیشہ کے لئے خاموش کرنا تھالیکن بھارتی حکمرانوں کے اس اقدام نے نہ صرف کشمیریوں کو متحد و یکجا کر دیا بلکہ بین الاقوامی برادری کو بھی بڑی حد تک جگا دیا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ دنیا کے بااثر ممالک مسئلہ کشمیر کو ایک انسانی المیہ کے طور پر دیکھنے کے بجائے اسے اپنے معاشی اور سیاسی مفادات کی عینک سے دیکھ رہے ہیں جو بذات خود ایک اور المیہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کے تازہ اقدامات کے بعد مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ان کے اس عزم میں پختگی آرہی ہے کہ بھارت کے خلاف جدوجہد کے علاوہ ان کے سامنے کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ صدر آزادکشمیر نے کہا کہ بھارت کے حالیہ اقدامات کے بعد کشمیری پہلے سے زیادہ بلند آواز سے اپنی قسمت کو پاکستان کے ساتھ وابستہ کرنے کے عزم کا اظہار کررہے ہیں۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ پچاس سال کے بعد مسئلہ کشمیر پر غور کرنے کے لئے سلامتی کونسل کا اجلاس اور بین الاقوامی میڈیا پر تسلسل کے ساتھ کشمیریوں کے بیانیہ کو تشہیر بھی ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنے دوست ممالک کی حمایت سے سلامتی کونسل پر اپنا دباؤ بڑہانا ہو گا کہ وہ مزید اپنے اجلاس منعقد کر کے بھارت کو کشمیر کے متعلق حالیہ اقدامات واپس لینے پر مجبور کرے اور کشمیر کے متعلق اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو کشمیر کے حوالے سے طویل المدتی اور قلیل المدتی اہداف طے کر کے ان کے حصول کے لئے کوششیں کرنا ہوں گی۔ ہمیں بھارت کے قوم پرست ہندو رہنماؤں کی حکمت عملی، منصوبہ بندی اور اہداف کو سمجھنا ہو گا اور دنیا کے سامنے اسے بیان کرنا ہوگا۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ ہمیں بھارت سے دوطرفہ مذاکرات کے جال میں نہیں پھنسنا چاہیے بلکہ بین الاقوامی برادری کی تائید و حمایت حاصل کر کے اقوام متحدہ کے فریم ورک کے اندر مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی کوششیں کرنی چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…