پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

پنجاب پولیس کے زیر حراست ملزمان پر تشدد اور عقوبت خانے، 7 ملزمان مار ڈالے،افسوسناک انکشافات

datetime 3  ستمبر‬‮  2019 |

راولپنڈی (این این آئی)پنجاب پولیس کے زیر حراست ملزمان پر تشدد اور عقوبت کے نئے انداز سامنے آنے لگے، رواں ماہ کے ابتدائی 3 دنوں میں 3 اور ڈیڑھ ماہ میں 7 زیر حراست ملزمان جاں بحق ہوچکے ہیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں ایک شخص کیمرے اور اے ٹی ایم کو دیکھتے ہوئے منہ چڑاتا ہے، بعد ازاں  اے ٹی ایم کارڈ چوری کرنے والے ملزم کو رحیم یار خان پولیس نے گرفتار کیا تھا۔

یکم ستمبر کو ملزم صلاح الدین پولیس حراست میں مسلسل تشدد سے جان کی بازی ہار گیا جبکہ 2 ستمبر کو لاہور کے علاقے شالیمار میں پولیس کے نجی عقوبت خانے سے بازیاب امجد بھی دم توڑ گیا،اس کے چند گھنٹوں بعد 3 ستمبر کو لاہور کے شمالی چھاؤنی تھانے کی پولیس کے تشدد سے معمولی چوری کا ملزم عامر بھی جاں بحق ہوگیا جس کے بعد ڈیڑھ ماہ کے دوران پنجاب پولیس کی حراست میں ہلاک ملزمان کی تعداد 7 ہوگئی۔زیرحراست ہلاک ہونے والے ملزم عامر کے اہلخانہ نے اسپتال کے باہر احتجاج بھی کیا اور پولیس پر تشدد کا الزام لگایا جبکہ لواحقین کاکہناتھا کہ ملزم پولیس والوں کے خلاف اگر مقدمات درج ہو بھی جائیں تو وہ چھوٹ جاتے ہیں۔آئی جی پنجاب عارف نواز نے عامر کی ہلاکت کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی ایس پی اشتیاق خان کو معطل اور 7 پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرایا تاہم اس واقعے کا کوئی ملزم ابھی تک گرفتار نہیں ہو سکا۔پولیس کی حراست میں ملزمان کی ہلاکت کے واقعات لاہور کے تھانہ اکبری، تھانہ لوئر مال، تھانہ گجر پورہ، اوکاڑہ اور فیصل آباد میں پیش آچکے ہیں۔اس حوالے سے انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس عارف نواز نے کہا ہے کہ قانون ہاتھ میں لینے والی کالی بھیڑوں کی محکمے میں کوئی جگہ نہیں۔انہوں نے کہا کہ تفتیش کے دوران تشدد کرنے پر زیرو ٹالرنس ہے، فورس کا امیج خراب کرنے والوں کو برداشت نہیں کروں گا۔پنجاب پولیس کے زیر حراست ملزمان کی ہلاکت پر صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے کہا ہے کہ زیر حراست ملزمان کی تشدد سے ہلاکت ناقابل معافی جرم ہے۔انہوں نے کہا کہ پولیس افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ ذمہ داروں کے خلاف مقدمات درج کرکے انہیں فوری گرفتار کیا جائے اور قانون کے مطابق سزا دلوائی جائے، ایسے افراد کو نشان عبرت بنانا ضروری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…