پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

اپنی بے گناہی ثابت کرنے تھانے جانا عامرمسیح کو مہنگا پڑ گیا، پولیس تشدد سے دو بچوں کا باپ موت کے منہ میں چلا گیا، پولیس اصلاحات کے حکومتی دعوے ہوا ہو گئے

datetime 3  ستمبر‬‮  2019 |

لاہور (آن لائن) تھانہ شمالی چھاؤنی کی زیر حراست ملزم عامر مسیح پولیس تشدد سے جاں بحق ہو گیا۔ تھانے میں دوران تفتیش عامر کی ہلاکت کے بعد صوبائی دارلحکومت لاہور میں گزشتہ 8 ماہ کے دوران پولیس تشدد سے ہلاک ہونے والے ملزمان کی تعداد سات ہو گئی ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آئی جی پولیس پنجاب عارف نواز نے چوری کے شبہ میں تھانہ شمالی چھاؤنی پولیس کی زیر صدارت ملزم عامر مسیح کی ہلاکت کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے ڈی ایس پی اشتیاق احمد کو معطل کر دیا ہے

جبکہ ایس ایچ او تھانہ شمالی چھاؤنی کو حراست میں لے کر ایس ایچ او سمیت دیگر 6 پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ جو فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ پولیس کی حراست سے شہریوں کو ہلاکت کے بڑھتے ہوئے واقعات نے وزیر اعظم عمران خان کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے اور آئی جی پولیس پنجاب سے پولیس کی تحویل میں شہریوں کو ہلاکت سے متعلق دس سالہ ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔واضح رہے کہ تھانہ شمالی چھاؤنی پولیس کی حراست میں ملزم عامر مسیح کی ہلاکت پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ مقدمہ عامر مسیح کے بھائی سنی مسیح کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔ دفعہ 302، 342، 34 ت پ کے تحت درج کی گئی ایف آئی آر میں انچارج انویسٹی گیشن انسپکٹر ناصر بیگ، سب انسپکٹر ذیشان اور چار کانسٹیبلوں کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔ ترجمان لاہور پولیس کے مطابق غیر ذمہ داری اور ناقص کارکردگی پر ایس ایچ او تھانہ شمالی چھاؤنی انسپکٹر خرم کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔ سی سی پی او لاہور بی اے ناصر نے واقعے کی باضابطہ تحقیقات کے لئے ایس ایس پی (آئی اے بی) فیصل مختار کو انکوائری آفیسر مقرر کر دیا ہے۔ سی سی پی او نے تمام ایس ایچ اوز اور بیٹ افسروں کو سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ زیر حراست ملزموں پر تشدد پر زیرو ٹالرنس ہے۔ آئندہ کسی پولیس سٹیشن میں ایسا واقعہ ہوا تو ایس ایچ او گرفتار ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نجی تفتیشی سیل کے کلچر کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔

ایس پی کینٹ نے تھانہ جنوبی چھاؤنی میں پولیس تشدد سے ہلاک ہونے والے نوجوان کے ورثاء کو پولیس کے خلاف احتجاج کرنے سے روک دیا۔ پولیس کے ہاتھوں قتل کئے جانے والے نوجوان کے اہل خانہ مقتول کی نعش سڑک پر رکھ کر احتجاج کرنا چاہتے تھے مگر ایس پی کینٹ نے مقتول عامر مسیح کے لواحقین سے مذاکرات شروع کر دیئے۔ ایس پی کینٹ کا مقتول کے ورثاء کو کہنا تھا کہ وہ نعش کی تدفین کے انتظامات کریں اور احتجاج کو چھوڑ دیں انہیں مکمل انصاف ملے گا۔ ایک نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے عامر مسیح کے بھائی نے کہا کہ وہ تو اپنی بے گناہی ثابت کرنے کیلئے تھانے گیا تھا لیکن میرے بھائی پر پولیس والوں نے شدید تشدد کیا جس کی وجہ سے اس کی ہلاکت ہو گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…