جمعہ‬‮ ، 06 فروری‬‮ 2026 

بھارت کی انتہا پسندانہ کارروائیا ں، سرمایہ کار بھاگنا شروع بھارت میں 40ہزار سے زائد چھوٹی بڑی صنعتیں بند ،60لاکھ افراد بیروزگار

datetime 31  اگست‬‮  2019 |

نئی دہلی( آن لائن )پاکستان اور بھارت کے مابین بڑھتے ہوئے کشیدہ حالات کی وجہ سے بھارت کو شدید اقتصادی بحران کا سامنا ہے۔ پاکستان کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہونے اور مودی حکومت کی انتہا پسندانہ پالیسیوں کی وجہ سے سرمایہ کاروں نے سرمایہ کاری کرنا چھوڑ دی ہے جس کے نتیجے میں بھارت میں 40 ہزار سے زائد چھوٹی بڑی صنعتیں بند ہو گئیں۔

ایک اندازے کے مطابق 60 لاکھ افراد بے روزگار ہو گئے ہیں، سب سے زیادہ تشویش اس بات کی ہے کہ نامور ماہرین اقتصادیات حکومت کو چھوڑ کر جا رہے ہیں ۔ بھارت میں سب سے پہلے ریزرو بنک کے گورنر مستعفی ہوئے، پھر ارجٹ پٹیل، ارند سبرمین اور اب اقتصادی کمیٹی کے چیئرمین ویوک دیورائے نے بھی حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے استعفیٰ دے دیا ہے۔اب اس وقت حکومت کے پاس کوئی بھی مایہ ناز ماہر اقتصادیات نہیں ہے جو ملک میں بڑھتے ہوئے اقتصادی بحران کو لگام ڈال سکے۔رپورٹ کے مطابق مودی حکومت کا یہ حال ہے کہ مریض کا جسم کانپ رہا ہے ، نرس دوسری طرف منہ کر کے بیٹھی ہے ، تھرما میٹر کو توڑ دیا گیا ہے اور اب ڈاکٹر کو بھی بھگایا جا رہا ہے ۔ ماہرین نے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے مودی سرکار کو خبردار کیا ہے کہ اگر مودی سرکار نے پاکستان کے ساتھ اپنے معاملات کو بہتر نہ کیا تو اس کے نتیجے میں بھارت کی معیشت بنگلہ دیش سے بھی نیچے آ سکتی ہے۔پاک بھارت کشیدگی کی وجہ سے بھارت کی آٹو انڈسٹری بری طرح متاثر ہوئی۔ٹیکسٹائل ملز سے بھی لاکھوں لوگوں کو نکال دیا گیا۔ نوکریاں ختم ہونے کے بعد لوگوں کی ایک بڑی تعداد مایوس اور پریشانی کے عالم میں فیکٹریوں سے باہر آ رہی ہے ۔ بھارتی ذرائع ابلاغ نے اس ضمن میں ہوشربا اعداد وشمار دے کر سب کو حیران کر دیا کہ 25 سے 50 لاکھ افراد صرف ٹیکسٹائل ملز کے بند ہونے سے بے روزگار ہوئے ، پہلے تو کسی نے بھی اس دعوے پر یقین نہیں کیا لیکن بھارتی ٹیکسٹائل ملز یونین نے اخبارات میں اشتہارات دے کر حکومتی دعووں کی قلعی کھول دی ۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…