پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

”پانامہ کی 202 کمپنیوں کیخلاف کارروائی نہیں ہوسکتی“ایف بی آر نے پاکستان کی لوٹی گئی رقم کی واپسی میں قانونی رکاوٹوں کا اعتراف کرلیا، حیرت انگیز انکشافات

datetime 26  اگست‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)وفاق میں محصولات جمع کرنے والے ادارے  فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)نے پاکستان کی لوٹی گئی رقم کی واپسی میں قانونی رکاوٹوں کا اعتراف کرلیا ہے۔ ایف بی آر حکام نے یہ اعتراف قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے حکومتی یقین دہانیاں کے اجلاس میں کیا

جس کی صدارت چیئرمین کمیٹی عامر ڈوگر کر رہے تھے۔ملک عامر ڈوگر کی زیر صدارت کمیٹی اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے ایف بی آر حکام نے کہا کہ موجودہ قوانین کے تحت پانامہ کی 202 کمپنیوں کیخلاف کارروائی نہیں ہوسکتی۔حکام نے اجلاس میں اعتراف کیا کہ پانامہ اسکینڈل میں 444 پاکستانی کمپنیوں کی نشاندہی ہوئی تھی۔عدم معلومات کے باعث 150 کمپنیوں کو ڈھونڈ ہی نہیں سکے۔15 کمپنیوں کے ساڑھے 14 ارب روپے کے کیسز میں ساڑھے 6 ارب موصول ہوچکے ہیں۔ایف بی آر حکام نے کہا کہ کمپنیوں کے حوالے سے جو معلومات ملی تھیں وہ کم تھیں۔ ہم  نے مزید معلومات مانگی ہوئی ہیں۔کمیٹی رکن عبدالاکبر چترالی نے کہا کہ میرے سوال کے جواب میں حماد اظہر نے بتایا تھا پانامہ اسکینڈل کے 30 افراد باہر ہیں 12 کا انتقال ہوگیا ہے۔میں نے کہا بندہ کہیں بھی ہو جائیداد تو ضبط ہوسکی ہے۔ مجھے بتایا گیا قانون بنائیں گے،آپ نے کیا قانون بنایا؟عبدالاکبر چترالی  نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے چوروں کے ساتھ این آر او کیا ہوا ہے،آپ اس کیس میں سنجیدہ نظر نہیں آرہے ہیں۔کیسز کے زائد المعیاد ہونے کا مسئلہ حل ہوسکتا تھا۔چیئرمین کمیٹی ملک عامر ڈوگر نے اس مسئلے کو (آج) منگل کو کابینہ اجلاس میں رکھنے کی درخواست کردی اور وزیر مملکت علی محمد خان کو ہدایت کی کہ آپ اس مسئلے کابینہ میں پیش کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…