پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

 جہاد کشمیر کیلئے 20ہزار نوجواں تیار،دھماکہ خیز اعلان کردیاگیا

datetime 25  اگست‬‮  2019 |

اسلام آباد  (آن لائن) ناموس رسالت اور ختم نبوت کے تحفظ کیلئے  پاکستان کی غالب اکثریت رسول محتشم? کے نام پر  مر ٹنے کیلئے ہمہ وقت تیار ہے، اسلام کے نام پر معرض وجود  آنے والی ریاست پاکستان میں خلاف اسلام کسی سرگرمی کی اجازت دیں گے نہ اس کے سرپرستوں کو چھوڑا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار مولانا گلزار احمد آزاد، مولانا ضیاء  الحق چینوٹی، مولانا افتخار اللہ شاکر،

مفتی عبدالرشید عثمانی اور مولانا کلیم اللہ سمیت  ممتاز علماء  کرام نے آج یہاں  مرکزی جامع مسجد مکی میں انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ پنجاب کی عاملہ و شوری کے ہنگامی و مشاورتی اجلاس  میں کیا۔ صاحبزادہ سید سمیع اللہ حسینی اور مولانا قاری احمد ندیم کی زیر صدارت اجلاس میں راولپنڈی، اسلام آباد سمیت پنجاب کے تمام شہروں  سے تنظیمی عہدیداروں نے شرکت کی۔ یک جہتی کشمیر اور تحفظ ختم نبوت کے بینر تلے منعقدہ اجلاس میں منظور شدہ قرار دادوں میں  بتایا گیا کہ کشمیر تکمیل پاکستان کا ایجنڈا اور حصہ ہے،سیاسی و عسکری قیادت اشارہ کرے تو   انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ پنجاب پندرہ سے بیس ہزار نوجوانوں کو جہاد کشمیر کیلئے روانہ کرسکتی ہے، دوسری قرارد میں  محرم الحرام کے تقدس کو برقرار رکھنے کیلئے  انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ پنجاب  نے تمام شہروں میں پولیس اور انتظامیہ کو غیر مشروط تعاون کی پش کش کی۔  مشاورتی اجلاس کے بعد پریس بریفنگ میں نائب صدرصاحبزادہ سید سمیع اللہ حسینی  نے بتایا کہ پنجاب بھر میں یکم سے دس ستمبر تک ہفتہ تحفظ ناموس رسالت? منانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سٹی اور ضلعی سطح پر پروگرامز، سیمناراور بیداری واک کے زریعے عوام کو  1973کے آئین کی ان شقوں کے بارے میں آگاہی دی جائیگی جس کی بدولت قادیانیوں کو دائرہ اسلام سے خارج کیا گیا۔ اس سے قبل مشاورت اجلاس میں  مقررنین کا کہنا تھا کہ بھارت کی طرف سے آئین کی دفعہ 370 اور35-A کی تحلیل  سوچی سمجھی اور گھناونی سازش ہے

جس کا مقصد کشمیریوں کو اْن کے بہت سے حقوق سے محروم کر کے اْن کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنا ہے۔1950ء  سے لے کر 2019ء  تک آرٹیکل 370اور 35-Aنے شیخ عبداللہ کے قبیل سے تعلق رکھنے والے سیاستدانوں کوموثر ہتھیار فراہم کیا جس کے ذریعے کشمیر یوں کو جدوجہدآزادی کے خلاف و رغلا نے کی ناکام کوشش کی گی اب مگر حالات بدل چکے ہیں  نریندر مودی کی قیادت میں ہند و فاشنرم کا دیوخوفناک چنگھاڑ کے کے ساتھ بیدار ہوگیاہے

جنکا فاشنرم کا سیلاب بھارت کی نام نہاد سیکولر پہچان کو بہا لے جائے گا  اس صورت حال نے محبوبہ مفتی، فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ وغیرہ جیسے ابن الوقتوں کے راستے بھی محدود کردیئے ہیں۔ اب ان کے سامنے دو ہی آپشن ہیں۔ یاتو وہ منافقت ترک کر کے حریت پسند وں کی صفوں میں شامل ہوجائیں یا پھر میر صادق اور میر جعفر جیسے غداروں کی فہرست میں اپنا نام لکھوا لیں۔  مودی سرکار یاد رکھے کشمیر کی داستان کا انجام بھی اسکی ذلت و رسوائی اور مظلوم کشمیری مسلمانوں کی فتح و آزادی پر ہوگا۔ آخر میں سجادہ نشین خانقاء  حسینیہ پیر ثناء  اللہ حسینی  نے اجتماعی دعا کرائی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…