جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

ایرانی عدالت سے خاتون صحافی کو ساڑھے 10 سال قید، 184 کوڑوں کی سزا

datetime 25  اگست‬‮  2019 |

لندن(این این آئی)ایران کی ایک انقلاب عدالت نے ایرانی رجیم کے جرائم سے پردہ اٹھانے کی پاداش میں صحافیہ مرضیہ امیری کو ساڑھے 10 سال قید اور ایک سو 84 کوڑوں کی سزا کا حکم دیا ہے۔ صحافیہ کا قصور یہ ہے کہ اس نے مزدوروں کے عالمی دن کے موقع پر ایران میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کی کوریج کی تھی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب نے مرضی امیری کو یکم مئی 2019ء کو ایران میں ہونے والے مظاہروں کے بعد حراست میں لے کرایفین جیل منتقل کردیا تھا۔ اس کے اہل خانہ اور وکلاء کو ملنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔اس کے ساتھیوں کا

کہنا تھا کہ مرضیہ ایرانی پارلیمنٹ کے باہر جمع ہونے والے مظاہرین کی کوریج کررہی تھی۔ اس دوران سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکاروں نے خود کو پولیس اہلکار ظاہر کرکے اسے حراست میں لے لیا تھا جس کے بعد اسے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا۔ مرضیہ امیری فارسی میں شائع ہونے والے اخبارکے ساتھ منسلک ہیں۔اخبار کی طرف سے جاری ایک بیان میں اپنی نامہ نگار مرضیہ امیری کی گرفتاری پر افسوس کا اظہارت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس گرفتاری کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اخباری رپورٹ کے مطابق مرضیہ امیری کو یکم مئی کو دن 11 گیارہ بجے گرفتار کرکے نامعلوم مقام پرمنتقل کردیا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…