بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

یمن،سعودی اتحاد میں دراڑ، حکومت کا علیحدگی پسندوں کیساتھ مذاکرات سے انکار

datetime 22  اگست‬‮  2019 |

ریاض(این این آئی)سعودی حمایت یافتہ یمن کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ جب تک جنوبی علیحدگی پسند عدن پورٹ کا قبضہ چھوڑ کر اپنی پوزیشن پر واپس نہیں جاتے اس وقت تک ان سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔دوسری جانب علیحدگی پسند سربراہ مذاکرات کے لیے سعودی عرب پہنچ گئے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق یمن میں فوجی اتحاد کے سربراہ سعودی عرب نے 10 اگست کو جنوبی فورسز کی جانب سے عدن پورٹ کا قبضہ حاصل کرنے کے بعد مذاکرات کے لیے ایک اجلاس بلایا تھا، تاہم اس اقدام نے اتحاد میں دراڑ ڈال دی ہے۔ادھر ایک اور اتحادی متحدہ عرب امارات اور یمنی حکومت کے درمیان بھی ایک دوسرے پر الزامات کا تبادلہ ہوا ۔یمنی حکومت کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ جنوبی ٹرانزیشنل کونسل (ایس ٹی سی) سے اس وقت تک ہم کسی قسم کے مذاکرات نہیں کریں گے جب تک وہ قبضہ کیے گئے علاقوں کو نہیں چھوڑتے اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے اسلحہ کو واپس کرتے ہوئے حکومتی فورسز کو واپس آنے کی اجازت نہیں دیتے۔قبل ازیں ایس ٹی سی نے اسی طرح کے مطالبات کو ماننے سے انکار کردیا تھا اور ابیان کے قریب میں فوجی کیمپس پر قبضہ کرتے ہوئے زیر قبضہ علاقوں میں بھی توسیع کردی تھی۔دوسری جانب ایس ٹی سی کے رہنماء عیدروس الزبیدی مذاکرات کے لیے سعودی عرب کے شہر جدہ پہنچ گئے ۔خیال رہے کہ ایس ٹی سی اور یمنی حکومت دونوں 2015 میں اتحادی تھے اور حوثی باغیوں کے لیے خلاف متحد ہوکر لڑ رہے تھے جبکہ حوثی باغیوں نے 2014 میں صدر منصور ہادی کی حکومت کو گرادیا تھا۔صدر منصور ہادی اپنی حکومت کا مرکز حوثی باغیوں کے حملے کے بعد عدن منتقل کردیا تھا جبکہ وہ خود سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں مقیم ہیں۔متحدہ عرب امارات کے حمایت علیحدگی پسندو جو صدر منصور ہادی پر بدانتظامی کا الزام لگاتے ہیں، ان کا مطالبہ ہے کہ یمن کے جنوبی علاقوں میں خود مختار حکومت کی اجازت دی جائے۔یاد رہے کہ یمن کے عدن پورٹ پر ایس ٹی سی نے حکومت کی متعدد عمارتوں، ایک فوجی کیمپ اور مشرقی بندرگاہ پر قبضہ کرلیا تھا تاہم بعد ازاں عمارتوں سے دست برداری کا بیان جاری کیا گیا تھا۔یمنی حکومت کے وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ فورسز کی جنوبی علاقے میں واقع ہسپتال اور کیبنیٹ سیکریٹریٹ سے واپسی کی گئی ہے اور انہیں وزارت داخلہ اور عدن کی ریفائنری دی جارہی ہے۔واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات نے یمن میں اپنی فوجیوں کی تعداد کم کردی تھی اور تنازع کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی تجویز دی تھی جبکہ صدر ہادی اور ان کی حکومت کا موقف ہے کہ جب تک باغی ہتھیار نہیں ڈالتے اس وقت تک مذاکرات نہیں ہوں گے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…