پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

تربیلا میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ختم،پانی کی سطح انتہائی حد تک پہنچنے پر راول ڈیم کے اسپل ویز کو کھول دیا گیا،سائرن بجا کر قریبی آبادی کو الرٹ کیا گیا

datetime 21  اگست‬‮  2019 |

اسلام آباد/لاہور( این این آئی )تربیلا، منگلا اور چشمہ کے آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج، ان کی سطح اور بیراجوں میں پانی کے بہا ئوکی صورت حال حسب ذیل رہی۔دریائے سندھ میںتربیلاکے مقام پرآمد183000 کیوسک اور اخرج 182700کیوسک، دریائے کابل میںنوشہرہ کے مقام پرآمد39500 کیوسک اور اخراج39500 کیوسک۔

جہلم میں منگلاکے مقام پرآمد34600کیوسک اور اخراج10000کیوسک، چناب میں مرالہ کے مقام پرآمد77300 کیوسک اور اخراج 59700کیوسک رہا۔جناح بیراج آمد228100 کیوسک اور اخراج 220100 کیوسک،چشمہ آمد224500کیوسک اوراخراج 170000کیوسک، تونسہ آمد273400 کیوسک اور اخراج263200 کیوسک، پنجند آمد64100 کیوسک اور اخراج 48300 کیوسک،گدو آمد 422700کیوسک اور اخراج 386000کیوسک، سکھر آمد363900کیوسک اور اخراج303600 کیوسک جبکہ کوٹری بیراج آمد182600کیوسک اوراخراج146500 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ۔تربیلا کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1392فٹ،پانی کی موجودہ سطح1550.00 فٹ،پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 1550فٹ اورقابل استعمال پانی کا ذخیرہ 6.049 ملین ایکڑ فٹ، منگلا کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1050فٹ،پانی کی موجودہ سطح 1215.20 فٹ،پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 1242فٹ اور قابل استعمال پانی کا ذخیرہ 5.346 ملین ایکڑ فٹ جبکہ چشمہ کا کم از کم آپریٹنگ لیول 638.15فٹ،پانی کی موجودہ سطح 645.70 فٹ،پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 649 فٹ اور قابل استعمال پانی کا ذخیرہ 0.145 ملین ایکڑ فٹ رہا۔تربیلا اور چشمہ کے مقامات پر دریائے سندھ، نوشہرہ کے مقام پر دریائے کابل اور منگلا کے مقام پر دریائے جہلم میں پانی کی آمد اور اخراج 24گھنٹے کے اوسط بہا ئوکی صورت میں ہے ۔علاوہ ازیں پانی کی سطح انتہائی حد تک پہنچنے پر راول ڈیم کے اسپل ویز کو کھول دیا گیا ۔راول ڈیم کے اسپل ویز کھولنے سے قبل سائرن بجا کر قریبی آبادی کو الرٹ کیا گیا،اسپل ویز کھولنے کے باعث پانی کی سطح میں ایک فٹ کمی واقع ہوئی ہے۔واضح رہے کہ راول ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 1752 فٹ ہے جبکہ موجودہ بارشوں اور گلیشیئر پگھلنے کے باعث پانی کی یہ سطح برابر ہوگئی تھی۔راول ڈیم سے راول پنڈی شہر کو پینے کا پانی سپلائی کیا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…