بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

ہم 44 سال پرانے جنگی طیارے اْڑا رہے ہیں، اتنی پرانی تو کوئی کار بھی چلانے کی ہمت نہ کرے، بھارتی ائیر چیف مارشل پھٹ پڑے، دلچسپ انکشافات

datetime 20  اگست‬‮  2019 |

نئی دہلی(این این آئی) بھارتی ایئرچیف مارشل بی ایس دھنوا نے مودی سرکار کو دہائی دی ہے کہ ہم 44 سال پرانے جنگی طیارے اْڑا رہے ہیں حالانکہ اتنی پرانی تو کوئی کار بھی چلانے کی ہمت نہ کرے۔بھارتی میڈیا کے مطابق انڈین ایئر فورس کے ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے

ایئر چیف اپنی ہی حکومتوں کی نااہلی اور لاپرواہی کا پردہ چاک کر گئے اور تاحال 1973 کے مگ طیاروں کے بھارتی فضائیہ کے بیڑے کا حصہ ہونے پر پھٹ پڑے۔ایئر چیف بریندر سنگھ دھنوا نے کہا کہ کوئی بھی ذی شعور شخص 44 سال قبل کی کار بھی چلانا نہیں چاہے گا کیوں کہ اس میں خطرہ ہے لیکن ہمیں اتنے ہی پرانے طیارے فضا میں اْڑانے ہوتے ہیں اور ایف-16 سے مقابلہ کرنا ہوتا ہے۔بھارتی فضائیہ کے سربراہ نے امید ظاہر کی رواں برس روس کے جنگی جیٹ طیارے مل جائینگے، فی الحال مگ طیاروں کی بھارت میں تیار کیے گے پرزوں سے مرمت کرکے کام چلایا جا رہا ہے۔ 110 مگ-21 طیاروں کو 2006 میں اپ ڈیٹ کیا گیا تھا۔واضح رہے کہ بھارتی پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے اعداد وشمار میں بتایا گیا تھا کہ 40 برسوں کے درمیان بھارتی فضائیہ کے 872 مگ-21 طیاروں میں سے نصف طیارے کسی نہ کسی واقعے میں تباہ ہوچکے ہیں جن میں سے 3 طیارے رواں برس تربیتی مشن کے دوران گر کر تباہ ہوئے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…