منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

ہم 44 سال پرانے جنگی طیارے اْڑا رہے ہیں، اتنی پرانی تو کوئی کار بھی چلانے کی ہمت نہ کرے، بھارتی ائیر چیف مارشل پھٹ پڑے، دلچسپ انکشافات

datetime 20  اگست‬‮  2019 |

نئی دہلی(این این آئی) بھارتی ایئرچیف مارشل بی ایس دھنوا نے مودی سرکار کو دہائی دی ہے کہ ہم 44 سال پرانے جنگی طیارے اْڑا رہے ہیں حالانکہ اتنی پرانی تو کوئی کار بھی چلانے کی ہمت نہ کرے۔بھارتی میڈیا کے مطابق انڈین ایئر فورس کے ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے

ایئر چیف اپنی ہی حکومتوں کی نااہلی اور لاپرواہی کا پردہ چاک کر گئے اور تاحال 1973 کے مگ طیاروں کے بھارتی فضائیہ کے بیڑے کا حصہ ہونے پر پھٹ پڑے۔ایئر چیف بریندر سنگھ دھنوا نے کہا کہ کوئی بھی ذی شعور شخص 44 سال قبل کی کار بھی چلانا نہیں چاہے گا کیوں کہ اس میں خطرہ ہے لیکن ہمیں اتنے ہی پرانے طیارے فضا میں اْڑانے ہوتے ہیں اور ایف-16 سے مقابلہ کرنا ہوتا ہے۔بھارتی فضائیہ کے سربراہ نے امید ظاہر کی رواں برس روس کے جنگی جیٹ طیارے مل جائینگے، فی الحال مگ طیاروں کی بھارت میں تیار کیے گے پرزوں سے مرمت کرکے کام چلایا جا رہا ہے۔ 110 مگ-21 طیاروں کو 2006 میں اپ ڈیٹ کیا گیا تھا۔واضح رہے کہ بھارتی پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے اعداد وشمار میں بتایا گیا تھا کہ 40 برسوں کے درمیان بھارتی فضائیہ کے 872 مگ-21 طیاروں میں سے نصف طیارے کسی نہ کسی واقعے میں تباہ ہوچکے ہیں جن میں سے 3 طیارے رواں برس تربیتی مشن کے دوران گر کر تباہ ہوئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…