بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

بوڑھے پاکستانی حاجی کو ہاتھوں پر اُٹھا کر حج کا فریضہ ادا کرنے میں مدد کرنے والے اہلکار نے دل جیت لئے

datetime 19  اگست‬‮  2019 |

ریاض (نیوز ڈیسک) حج کے موقع پر سعودیہ کی حکومت حجاج کرام کو بہترین سہولیات دینے کی کوشش کرتی ہے تاکہ انہیں کسی قسم کی پریشانی نہ ہو، وہاں موجود سکیورٹی اہلکار بھی حاجیوں کی خدمت میں پیش پیش رہتے ہیں، حاجیوں کی خدمت کا ایک واقعہ سامنے آیا ہے، انسانی خدمت کا یہ بے مثال واقعہ شاید سامنے نہ آ سکتا لیکن فوٹو گرافر سعود مسیہیج الغنزی نے سکیورٹی اہلکار کی ایک بزرگ حاجی کی مدد کرتے ہوئے تصویر کھینچ لی اور صبح یہ تصویر اخبارات میں چھپ گئی

جس پر مکہ کے گورنر نے حج کی بہترین تصویر قرار دیتے ہوئے انہیں اول انعام دیا، اس تصویر میں ایک سکیورٹی اہلکار نے ایک بزرگ پاکستانی حاجی کو اٹھا رکھا ہے اور وہ انہیں اپنی منزل مقصود تک پہنچا رہا ہے، اس تصویر کے بارے میں وہ سکیورٹی اہلکار جس کا نام ماجد علی الحکمی تھا بھی لا علم تھا لیکن جب اخبارات میں تصویر چھپی تو اسے علم ہوا۔ اس کی یہ نیکی تصویر کی صورت میں دنیا کے سامنے آئی تو اس کی تعریف کے پل باندھ دیے گئے۔ سکیورٹی اہلکار ماجد نے اس حوالے سے بتایا کہ میں نے عرفات کے روز دور کھڑے ایک بوڑھے حاجی کو دیکھا جنہیں چلنے میں دُشواری کا سامنا تھا، اس نے بتایا کہ یہ بزرگ تھوڑی دیر چل کر رک جاتے تھے اور اپنے پیروں کو ملتے، اپنی سانس بحال کرتے اور دوبارہ چل پڑتے لیکن دو چار قدم چلنے کے بعد دوبارہ تھک جاتے، سکیورٹی اہلکار ماجد نے بتایا کہ یہ سب دیکھ کر میں ان کے پاس گیا اور ان سے سوال کیا کہ کیا آپ کے پاؤں زخمی ہیں، ماجد نے کہا کہ اس کے جواب میں بزرگ حاجی نے اردو میں مجھے جواب دیا لیکن میں یہ سمجھ نہ پایا، زبان نہ سمجھنے کے باوجود اتنی سمجھ آ گئی کہ بزرگ شدید تکلیف میں ہیں، میں نے انہیں پانی پلایا اور اشارہ کرتے ہوئے سمجھایا کہ آپ میرے والد جیسے ہیں، میں آپ کو آپ کی منزل تک پہنچا کر آتا ہوں، اس کے بعد میں نے بزرگ حاجی کو سہارا دے کر چلنے میں مدد دی لیکن ان کی ہمت چند قدم چلنے کے بعد دوبارہ جواب دے گئی جس پر میں نے انہیں ہاتھوں پر اٹھا لیا، پہلے انہیں مزدلفہ تک لے کر گیا اور پھر وہاں سے منیٰ میں ان کے ٹھکانے تک پہنچایا۔ ماجد نے بتایا کہ تمام راستے میں وہ اردو میں مجھ سے کچھ بولتے رہے اور دعائیں بھی دیتے رہے، ماجد نے بتایا کہ اس دوران حیران کن طور پر مجھے تھکن بھی محسوس نہیں ہوئی۔ اس طرح ماجد کے اس عمل نے سب کے دل جیت لئے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…