پیر‬‮ ، 12 جنوری‬‮ 2026 

بچوں کو ٹیچر کا نظر انداز کرنا موٹاپے کا باعث بنتا ہے

datetime 7  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈ یسک )یوں تو موٹے بچے صحت کے کئی مسائل سے دوچار رہتے ہیں لیکن اسکول میں بھی ان کی کارگردگی اچھی نہیں ہوتی اسی سلسلے میں امریکہ میں کی گئی ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ایسے بچوں کی خراب کارگردگی کا ایک بڑا سبب انہیں ٹیچرز کی جانب سے نظر انداز کرنا بھی ہے۔برطانیہ میں یونیورسٹی آف برمنگھم میں کی گئی ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ موٹے بچے صحت کے مسائل سے دوچار یونے کے ساتھ ساتھ اسکول میں بھی خراب کارگردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں لیکن اس خراب کارگردگی میں صرف ان کی کاہلی اور نااہلی وجہ نہیں ہوتی بلکہ ٹیچز کی جانب سے انہیں نظر انداز کرنا بھی اس کی ایک بڑی وجہ ہے۔ ریسرچ کی اہم رکن انجیلا میڈوز نے تحقیق سے متعلق کہا کہ ٹیچرز کا موٹے بچوں کے سے متعلق ماننا ہے کہ ایسے بچے نااہل ہوتے ہیں اس لیے وہ ان پر توجہ نہیں دیتے اور وہ کہتے ہیں کہ جن بچوں کا وزن بہت بڑھ جاتا ہے ان کی کاگردگی بھی متاثرہونے لگتی ہے لیکن تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ ان بچوں میں ذہانت ہوتی ہے لیکن ٹیچرز کا متعصبانہ رویہ انہیں مزید نالائق بنا دیتا ہے۔ تحقیق کے مطابق اساتذہ کا یہ رویہ موٹے بچوں پر دور رس نتائج مرتب کرتا ہےاور انہیں ڈپریشن اور انجانے خوف میں مبتلا کردیتا ہے۔مس انجیلا میڈوز کا کہنا تھا کہ اچھی ٹیچرز ٹریننگ، موٹے بچوں کے خلاف سوچ کو بدلنے اور سب کی عزت کی سوچ کو عام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ موٹے بچے بھی بھر پور طریقے سے تمام سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں۔ تحقیق میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹیچرز موٹے بچوں سے توقعات کم رکھتے ہیں جس کی وجہ سے وہ ان پر توجہ بھی نہیں دیتے جو ان بچوں کی خراب کارگردگی کا سبب بن جاتا ہے۔
ہارورڈ اسکول آف پبلک ہیلتھ کی جانب سے 10 سال تک پری پرائمری اور پرائمری لیول کے اسکول کے بچوں ہر کی گئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ 10 سے 14 سال کے بچوں کے وزن میں اضافہ ٹیچر کی نظر میں بچوں کی ریٹنگ کو متاثر کرتا ہے۔ 3300 بچوں پر کی گئی اس تحقیق میں موٹے بچوں نے ریاضی کے اسٹینڈرڈئز ٹیسٹ کو مکمل کیا جس سے ثابت ہوا کہ وزن کا بڑھنا ان کے ٹیسٹ اسکور پر کوئی فرق نہیں ڈالتا تاہم ٹیچرز کی ان پر توجہ کم ہوجاتی ہے جو ان کی کارگردگی کو متاثر کرتی ہے۔ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ لڑکیوں میں وزن بڑھنے کے ساتھ ہی اپنی صلاحیتوں سے متعلق ان کے اعتماد میں بھی کمی ہوجاتی ہے اور ان کی کارگردگی متاثر ہونے لگتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…