اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

بچوں کو ٹیچر کا نظر انداز کرنا موٹاپے کا باعث بنتا ہے

datetime 7  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈ یسک )یوں تو موٹے بچے صحت کے کئی مسائل سے دوچار رہتے ہیں لیکن اسکول میں بھی ان کی کارگردگی اچھی نہیں ہوتی اسی سلسلے میں امریکہ میں کی گئی ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ایسے بچوں کی خراب کارگردگی کا ایک بڑا سبب انہیں ٹیچرز کی جانب سے نظر انداز کرنا بھی ہے۔برطانیہ میں یونیورسٹی آف برمنگھم میں کی گئی ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ موٹے بچے صحت کے مسائل سے دوچار یونے کے ساتھ ساتھ اسکول میں بھی خراب کارگردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں لیکن اس خراب کارگردگی میں صرف ان کی کاہلی اور نااہلی وجہ نہیں ہوتی بلکہ ٹیچز کی جانب سے انہیں نظر انداز کرنا بھی اس کی ایک بڑی وجہ ہے۔ ریسرچ کی اہم رکن انجیلا میڈوز نے تحقیق سے متعلق کہا کہ ٹیچرز کا موٹے بچوں کے سے متعلق ماننا ہے کہ ایسے بچے نااہل ہوتے ہیں اس لیے وہ ان پر توجہ نہیں دیتے اور وہ کہتے ہیں کہ جن بچوں کا وزن بہت بڑھ جاتا ہے ان کی کاگردگی بھی متاثرہونے لگتی ہے لیکن تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ ان بچوں میں ذہانت ہوتی ہے لیکن ٹیچرز کا متعصبانہ رویہ انہیں مزید نالائق بنا دیتا ہے۔ تحقیق کے مطابق اساتذہ کا یہ رویہ موٹے بچوں پر دور رس نتائج مرتب کرتا ہےاور انہیں ڈپریشن اور انجانے خوف میں مبتلا کردیتا ہے۔مس انجیلا میڈوز کا کہنا تھا کہ اچھی ٹیچرز ٹریننگ، موٹے بچوں کے خلاف سوچ کو بدلنے اور سب کی عزت کی سوچ کو عام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ موٹے بچے بھی بھر پور طریقے سے تمام سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں۔ تحقیق میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹیچرز موٹے بچوں سے توقعات کم رکھتے ہیں جس کی وجہ سے وہ ان پر توجہ بھی نہیں دیتے جو ان بچوں کی خراب کارگردگی کا سبب بن جاتا ہے۔
ہارورڈ اسکول آف پبلک ہیلتھ کی جانب سے 10 سال تک پری پرائمری اور پرائمری لیول کے اسکول کے بچوں ہر کی گئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ 10 سے 14 سال کے بچوں کے وزن میں اضافہ ٹیچر کی نظر میں بچوں کی ریٹنگ کو متاثر کرتا ہے۔ 3300 بچوں پر کی گئی اس تحقیق میں موٹے بچوں نے ریاضی کے اسٹینڈرڈئز ٹیسٹ کو مکمل کیا جس سے ثابت ہوا کہ وزن کا بڑھنا ان کے ٹیسٹ اسکور پر کوئی فرق نہیں ڈالتا تاہم ٹیچرز کی ان پر توجہ کم ہوجاتی ہے جو ان کی کارگردگی کو متاثر کرتی ہے۔ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ لڑکیوں میں وزن بڑھنے کے ساتھ ہی اپنی صلاحیتوں سے متعلق ان کے اعتماد میں بھی کمی ہوجاتی ہے اور ان کی کارگردگی متاثر ہونے لگتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…