منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

ایرانی نژاد کپتان کی قیادت میں ایران ہی کیخلاف امریکی بحری بیڑے ”ٹرومن“کی روانگی،طبل جنگ بج گیا

datetime 17  اگست‬‮  2019 |

واشنگٹن (این این آئی)امریکا اور ایران کے درمیان بحران اور تناؤ اپنے عروج پر ہے۔ اس تناؤ کے جلو میں ایران کے خلاف امریکا کے دفاعی مشن کے تحت امریکی جوہری طیارہ پردار بیڑا ہیری ٹرومن عالمی پانیوں میں روانہ ہوگیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہیری ٹرومن کے کپتان کی ذمہ داری ایک ایرانی نژاد امریکی کافون حکیم زادہ کو سونپی گئی ہے۔

وائس آف امریکا کی فارسی سروس کی ویب سائیٹ پر جاری ایک رپورٹ میں پائلٹ آن لائن کے حوالے سے بتایا ہے کہ کافون حکیم زادہ 30 سال پیشتر ورجینیا میں نورفالک میں امریکی نیوی میں شامل ہوئے۔ اس وقت ان کی عمر 19 سال تھی۔ ایک ماہ قبل امریکی نیوی نے حکیم زادہ کو بحری بیڑے ہیری ٹرومن کا نیا کپتان متعین کیا تھا۔کافون حکیم زادہ کے والدین امریکی ہیں۔ انہوں نے اپنے بچپن کا ابتدائی عرصہ ایران میں گزرا۔ ایران میں ولایت فقیہ کے انقلاب کے بعد ایران چھوڑ کر امریکا چلے آئے۔ اس وقت حکیم زادہ کی عمرہ گیار سال تھی۔امریکا آمد کے بعد حکیم زادہ کا خاندان ریاست مسیسپی کے شہر ہٹسبرگ میں قیام کیا۔اگرچہ حکیم زادہ کی زندگی کا بیشتر عرصہ امریکا میں گذرا مگر وہ فارسی زبان بھی بولتے ہیں۔ پائلٹ آن لائن کے مطابق حکیم زادہ کا کہنا ہے کہ امریکا میں تمام شہریوں کو آگے بڑھنے کے مساوی مواقع میسر ہیں۔خیال رہے کہ ہیری ٹرومن نیمٹز کے طیارہ بردار بیڑا ہے۔ اس کی لمبائی 332 میٹر اور وزن 116 ٹن ہے۔ اس میں دو جوہری پلانٹ، 90 جنگی ہیلی کاپٹر اور نیوی کے عملے کے 600 اہلکار سوار ہو سکتے ہیں۔ہیری ٹرومن بحری بیڑا  2001ء  میں پہلی بار افغانستان کے خلاف اور بعد ازاں عراق کی جنگ میں استعمال کیا گیا۔ یہ بیڑا 33 ویں آنجہانی امریکی صدر ہیری ٹرومن کے نام پر تیار کیا گیا ہے۔دریں اثناء امریکی وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے کہا ہے کہ واشنگٹن ایران کو خطے کی سلامتی اور امریکی اتحادیوں کے لیے سنگین خطرہ سمجھتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف اپنی پالیسیوں اور خطے میں ان کے اثرات میں کسی پس وپیش سے کام نہیں لے گا۔امریکی حکام نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پرعرب ٹی وی اور دیگر ٹی وی چینلوں کے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تہران یمن کے حوثی باغیوں کو اسلحہ فراہم کر رہا ہے۔ سعودی عرب پر ڈرون طیاروں اور بیلسٹک میزائلوں سے حملے کیے جا رہے ہیں۔

حالیہ ایام میں عدن میں کشیدگی یمن کو ٹریک سے اتارنے کی مجرمانہ کوشش ہے۔ عدن میں ہونے والی تبدیلی ہمیں قبول نہیں۔ امریکا عدن میں فریقین کے درمیان جنگ بندی کی سعودی مساعی کی حمایت جاری رکھے گا۔امریکی وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار نے کہا کہ امریکا عالمی پانیوں میں جہاز رانی کے تحفظ کے لیے عالمی فوج کی تشکیل کی کوششوں میں سنجیدہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا مقصد ایران کے خلاف فوج تشکیل دینا نہیں بلکہ عالمی پانیوں میں جہاز رانی کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔خیال رہے کہ امریکا نے چند ہفتے قبل عالمی جہاز رانی کے تحفظ کے لیے سیکیورٹی فورس تشکیل دینے کی تجویزیز پیش کی تھی۔

امریکا نے خطے کے ممالک سے بھی کہا ہے کہ وہ جہاز رانجی کے تحفظ کے لیے امن فوج کی تیاری میں شامل ہونے کی تیاری کریں۔امریکی وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار نے کہا کہ لبنانی وزیراعظم سعد حریری رواں ہفتے کے آغاز سے واشنگٹن میں ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بھی سعد حریری سے ملاقات کی ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ لبنانی وزیراعظم پر لواضح کیا گیا ہے کہ لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی حمایت کرنے والے غیر شیعہ افراد کو بھی پابندیوں کا نشانہ بنایا جائے گا۔امریکی وزارت خارجہ کے عہدہ دار نے کہا کہ لبنان میں پابندیاں صرف شیعہ طبقے تک محدود نہیں ہوں گی بلکہ غیر شیعہ عناصر پر پر بھی پابندی عاید کی جائے گی۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جنوبی لبنان میں متعین عالمی امن فوج میں امریکی دستوں کو واپس بلایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں عالمی امن فوج کے دستوں میں کمی آرہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…