منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

دوحہ بنک اور دو قطری بھائیوں کے خلاف النصرہ محاذ کو رقوم دینے پر قانونی چارہ جوئی

datetime 17  اگست‬‮  2019 |

لندن (این این آئی)برطانیہ کی ایک عدالتِ عالیہ میں قطری ریاست کے ملکیتی دوحہ بنک اور دو بھائیوں کے خلاف شام میں باغی انتہا پسند گروپ النصرہ محاذ کو غیر قانونی طور پر رقوم منتقل کرنے کے الزام میں ایک قانونی درخواست دائر کی گئی ہے۔یورپ میں مقیم آٹھ شامی شہریوں نے

عدالت میں یہ درخواست دائر کی ہے اور عدالت نے انھیں اپنی شناخت مخفی رکھنے کی اجازت دے دی ہے۔انھوں نے الزام عاید کیا ہے کہ انھیں شام میں القاعدہ سے وابستہ تنظیم النصرہ محاذ کے جنگجوؤں نے تشدد کا نشانہ بنایا تھا اور ان کے آبائی علاقے سے دربدر کردیا تھا۔عدالت میں پیش کی گئی دستاویز میں دوحہ بنک پر الزام عاید کیا گیا ہے کہ وہ النصرہ محاذ کے جنگجوؤں کو رقوم کی منتقلی روکنے میں ناکام رہا تھا۔انھیں قطر سے تعلق رکھنے والی دو کاروباری شخصیات دوحہ بنک کے ذریعے رقوم منتقل کرتی رہی تھیں۔یہ دونوں بھائی اصلاً شامی ہیں۔قانونی عذر داری میں الزام عاید کیا گیا ہے کہ خیّاط برادران نے النصرہ محاذ کی خود مالی مدد کی تھی یا اس کو رقوم مہیا کرنے میں مدد کی تھی۔ وہ دوحہ بنک میں اپنے یا اپنے ملکیتی اداروں کے کھاتوں کے ذریعے یہ رقوم منتقل کرتے رہے تھے۔معتز اور رمیز الخیّاط قطر میں عربہ کان کے نام سے ایک تعمیراتی کمپنی کے مالک ہیں۔ اس کے علاوہ بھی ان کے اس خلیجی ریاست میں کاروبار ہیں۔برطانوی اخبار دا ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق دعوے داروں کو انتہا پسندوں نے شدید جسمانی اور نفسیاتی تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔لندن میں دوحہ بنک کے اعلیٰ نمائندے رچرڈ وٹنگ نے کہا ہے کہ اس دعوے کی بہت تھوڑی تفصیل دستیاب ہوئی ہے،اس پر دوحہ بنک المحدود (لیمٹڈ) قانونی مشاورت کررہا ہے۔تاہم وہ اپنے خلاف عاید کردہ الزامات کو بے بنیاد اور کسی میرٹ کے بغیر تصوّر کرتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…