منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

ملائیشیا میں ہندووں کو بھارت کی ’مسلمان اقلیت کے مقابلے 100 گنا زیادہ حقوق۔۔!  حساس بیان ملائشیا میں مقیم ذاکر نائیک کومہنگا پڑ گیا

datetime 16  اگست‬‮  2019 |

کوالالمپور(آن لائن) بھارت کے معروف مبلغ ذاکر نائیک کی جانب سے مبینہ طور پر دیے گئے حساس ریمارکس پر انہیں ملائیشیا میں تفتیش کا سامنا ہے۔برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق یہ اقدام متعدد وزرا کی جانب سے ذاکر نائیک کو بے دخل کرنے کے مطالبے کے بعد اٹھایا گیا جب انہوں نے ایک متنازع بیان میں کہا کہ ملائیشیا میں ہندووں کو بھارت کی ’مسلمان اقلیت کے مقابلے 100 گنا زیادہ حقوق حاصل ہیں‘۔

خیال رہے کہ ذاکر نائیک گزشتہ 3 سالوں سے ملائیشیا میں رہائش پذیر ہیں جبکہ بھارت میں انہیں نفرت انگیز تقریر اور منی لانڈرنگ کے الزامات کا سامنا ہے۔حال ہی میں انہیں ملائیشیا کی نسلی اور مذہبی اقلیتوں کو مالے نسل (جو زیادہ تر مسلمانوں پر مشتمل ہے) کی اکثریت کے خلاف مبینہ طور پر اکسانے پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔اس سلسلے میں وزیر داخلہ محی الدین یٰسین نے بتایا کہ پولیس ذاکر نائیک اور متعدد دیگر افراد سے نسل پرستانہ بیان دینے اور ایسی جعلی خبریں پھیلانے کے حوالے سے تفتیش کرے گی جس سے عوامی جذبات متاثر ہوئے۔بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ’میں غیر مسلم شہریوں سمیت ہر ایک کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ جو کوئی بھی عوامی ہم ا?ہنگی کے لیے خطرہ بنے گا قانون نافذ کرنے والے ادارے اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرنے سے پہلے نہیں سوچیں گے‘۔ؔدوسری جانب جب ڈاکٹر ذاکر نائیک کے نمائندے سے اس حوالے سے جاننا چاہا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ پہلے وزیر داخلہ کا بیان پڑھنا چاہیں گے۔خیال رہے کہ ملائیشیا میں نسل اور مذہب ایک حساس معاملہ ہے جہاں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ یعنی 60 فیصد مالے قوم سے تعلق رکھنے والے مسلمان ہیں جبکہ بقیہ ا?بادی چینیوں، بھارتیوں پر مشتمل ہے جن کی اکثریت ہندو ہے۔اس سے قبل ذاکر نائیک بھارت میں اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں، ان کا موقف ہے کہ انہیں سیاق وسباق سے ہٹ پیش کیا جاتا ہے۔ملائیشیا کی سرکاری خبررساں ادارے برنامہ نے ملائیشین وزیراعظم مہاتیر محمد کے حوالے سے بتایا کہ

انہوں نے رواں ہفتے کہا تھا کہ ذاکر نائیک کو بھارت واپس نہیں بھیجا جائے گا کیوں کہ ان کے تحفظ کو خطرہ ہے۔انہوں نے مزید کہا تھا کہ ’اگر کوئی دوسرا ملک ذاکر نائیک کو رکھنا چاہے تو اسے خوش ا?مدید کہا جائے گا‘۔یاد رہے کہ بھارت نے ذاکر نائیک اور ان کے معاونین پر اپنے پیروکاروں میں دشمنی کا تاثر ابھارنے اور مختلف مذہبی گروہوں کے درمیان نفرت یا ناپسندیدگی پھیلانے کا الزام لگاتے ہوئے 2016 میں ان کی اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن پر پابندی عائد کردی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…