منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

کشمیری جانوروں کی طرح پنجرے میں قید،محبوبہ مفتی کی صاحبزادی ثناء التجا کو آواز اُٹھانا مہنگا پڑ گیا

datetime 16  اگست‬‮  2019 |

سرینگر(آن لائن)مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی صاحبزادی نے بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کے نام لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ ’کشمیری جانوروں کی طرح پنجرے میں قید ہیں اور وہ اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں‘۔ محبوبہ مفتی کی صاحبزادی ثنا التجا جاوید نے دعویٰ کیا کہ انہیں دھمکی دی گئی کہ دوبارہ کچھ کہا تو سنگین نتائج بھگتنے ہوں گے۔4 اگست کو محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو تحویل میں لیے جانے کے بعد سے ثنا التجا جاوید کئی انٹرویوز اور وائس میسیجز جاری کر چکی ہیں۔

امیت شاہ کو لکھے خط میں انہوں نے کہا کہ ’آج جب پورا ملک بھارت کے یومِ آزادی کا جشن منارہا ہے، کشمیری جانوروں کی طرح پنجرے میں قید ہیں اور اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں‘۔تاہم بھارتی وزیر داخلہ کو یہ خط ارسال نہیں کیا گیا جس کے متن میں کہا گیا کہ ’خط پوسٹ نہ کرنے پر معذرت خواہ ہوں کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ جموں و کشمیر میں پوسٹل سروسز معطل ہیں‘۔ثنا التجا جاوید نے کہا کہ انہیں گھر سے باہر قدم نکالنے کی اجازت نہیں، انہوں نے اپنی مبینہ گرفتاری سے متعلق وضاحت بھی مانگی۔میڈیا میں جاری کیے گئے خط میں انہوں نے کہا کہ ’بدقسمتی سے کچھ وجوہات کی بنیاد پر، جن سے متعلق آپ زیادہ بہتر جانتے ہیں، میں بھی اپنی رہائش گاہ پر نظر بند ہوں، یہاں تک کہ ہمیں آگاہ نہیں کیا جاتا اور ملاقاتیوں کو دروازے سے ہی واپس بھیج دیا جاتا ہے‘۔محبوبہ مفتی کی بیٹی نے کہا کہ ’میں کسی سیاسی جماعت سے وابستہ نہیں ہوں اور بطور شہری ہمیشہ قانون کی پاسداری کی ہے‘۔ثنا التجا کا امیت شاہ کو لکھا گیا مذکورہ خط میڈیا میں وائس میسج کے ساتھ جاری کیا گیا تھا۔خط میں انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے شہری کو ناقابل تصور دباؤ پر آواز اٹھانے کا حق حاصل نہیں؟‘۔ثنا التجا نے کہا کہ ’یہ المناک ستم ظریفی ہے کہ تکلیف دہ سچ بیان کرنے پر میرے ساتھ جنگی جرائم کے مجرم جیسا سلوک کیا جارہا ہے‘۔انہوں نے کہا کہ ’میرے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیا جارہا ہے اور میری سخت نگرانی کی جارہی ہے، مجھے اپنے ساتھ ساتھ ان کشمیریوں کی جان کا خطرہ بھی درپیش ہے جنہوں نے اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائی ہے‘۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…