منگل‬‮ ، 18 اگست‬‮ 2026 

جمعیت علماء کے اہم رہنما اور معروف عالم دین مسجد کے باہر کرنٹ لگنے سے شہید ہوگئے

datetime 15  اگست‬‮  2019 |

کراچی (این این آئی)جمعیت علماء اسلام اتحاد ٹاؤن کے رہنما ء اور قاری محمد عثمان کے قریبی رشتے دار اور جامع مسجد یونس کے امام وخطیب مولانا رفیع الحق اپنی مسجد کے باہر کرنٹ لگنے سے شہید ہوگئے۔ نماز جنازہ قاری محمد عثمان نے پڑھائی۔ سینکڑوں علماء کرام سمیت ہزاروں افراد کی شرکت۔ ضروری کاروائی اور جنازے کے بعد انکی میت آبائی گاؤں رنزڑہ تحصیل چکیسر ضلع شانگلہ روانہ کردی گئی۔ جمعیت علماء اسلام کے رہنماء،جامعہ عثمانیہ شیر شاہ کے رئیس اور

علماء ایکشن کمیٹی کراچی کے چیئرمین قاری محمد عثمان نے مولانا رفیع الحق کی نماز جنازہ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کے الیکٹرک کی نااہلی اور ناقص حکمت عملی کی وجہ سے حالیہ بارشوں میں کراچی کے درجنوں شہری کرنٹ لگنے سے شہید اور لاتعداد زخمی ہوگئے مگر کے الیکٹرک،کراچی انتظامیہ ٹس سے مس نہیں ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان درجنوں افراد کے سفاکانہ قتل کا ذمہ دار کے الیکٹرک کا ادارہ ہے۔آج کے دور میں دنیا میں ایسی بجلی کے کرنٹ سے اموات کی مثال نہیں ملتی۔قاری محمد عثمان نے کہا کہ کرنٹ سے اموات کی بالکل قتل کے برابر ذمہ داری اس لئے کے الیکٹرک پر عاید ہوتی ہے کہ کے الیکٹرک نے کرنٹ سے بچاؤکے انتظامات کیوں نہیں کیئے۔ انہوں نے کہا کہ بارشیں اچانک نہیں ہوئی ہیں مگر کے الیکٹرک جہاں لوڈشیڈنگ پر قابو پانے میں ناکام ہوچکا ہے وہاں کرنٹ سے بچاؤ کے انتظامات میں بھی بری طرح ناکام ہونے کے ساتھ ساتھ اب تک درجنوں افراد کی شہادت پر نہ کوئی معاوضہ دیا گیا اور نہ ہی مزید نقصانات سے بچاؤکے انتظامات کے گئے۔ علاوہ ازیں جامع مسجد ایوبیہ اتحاد ٹاون میں علماء کرام کا ایک ہنگامی اجلاس ڈاکٹر عطاء الرحمن کی زیرصدارت منعقد ہوا جسمیں قاری محمد عثمان نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ اجلاس میں مولانا رفیع الحق کے کرنٹ کے ذریعہ اچانک شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مولانا مرحوم کیلئے دعائے مغفرت کی گئی اور فیصلہ کیا گیا ہے کہ مولانا رفیع الحق کی کرنٹ لگنے سے موت واقع ہونے کی متعلقہ تھانہ میں ایف آئی آر درج کرائی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…