منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

سکیورٹی آپریشن میں 11 افغان شہریوں کی ہلاکت پر اقوام متحدہ کا نوٹس

datetime 15  اگست‬‮  2019 |

کابل(این این آئی) اقوامِ متحدہ نے پاکستانی سرحد سے منسلک افغان صوبے میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں شہریوں کی ہلاکت پر تشویش کا اظہار کردیا۔امریکا اور طالبان کی جانب سے کسی سمجھوتے تک پہنچنے کے لیے متعدد کوششوں کے باوجود افغانستان میں شہری ہلاکتوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ا

فغان سکیورٹی ادارے نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکیورٹی (این ڈی ایس) کا کہنا تھا کہ پکتیا میں طالبان کی خفیہ پناہ گاہ پر آپریشن کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں 11 عسکریت پسند مارے گئے جن میں 2 کمانڈر بھی تھے۔دوسری جانب افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے معاون مشن کا کہنا تھا کہ اسے تلاشی کے عمل کے دوران ہونے والی ہلاکتوں پر سخت تشویش ہے اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی ٹیمز اس کی تحقیقات کررہی ہیں۔دوسری جانب ایک مقامی سیاستدان کا کہنا تھا کہ حکومتی فورسز نے عیدالاضحٰی کی تعطیلات کے دوران طالب علموں کی ایک تقریب کو نشانہ بنایا۔پکتیا کی صوبائی کونسل کے رکن اللہ میر خان بہرمزوئی نے بتایا کہ ’یونیوسٹی کے ایک طالب علم نے اپنے ہم جماعتوں کو عشایئے پر مدعو کر رکھا تھا، جب سیکیورٹی فورسز نے گھر کا گھیراؤ کیا اور انہیں باہر نکال کر ایک ایک کر کے قتل کردیا گیا۔ادھر این ڈی ایس نے دعویٰ کیا کہ چھاپے کے دوران اسلحہ اور گولہ بارود قبضے میں لیا گیا جبکہ مذکورہ آپریشن طالبان کی پناہ گاہ کی اطلاع ملنے پر کیا گیا جس میں کسی سویلین کی ہلاکت نہیں ہوئی۔اقوامِ متحدہ کے مطابق رواں سال کی پہلی ششماہی کے دوران 4 ہزار شہری مارے گئے یا زخمی ہوئے، اس تعداد میں حکومتی اور غیر ملکی افواج کی کارروائیوں میں ہونے والی ہلاکتوں کی بھی بڑی تعداد شامل ہے۔افغان شہریوں کی ہلاکتوں کی بڑی وجہ چھاپہ مار کارروائیاں اور جھڑپیں ہیں، جس کے بعد بم حملے اور فضائی حملے آتے ہیں۔خیال رہے کہ طالبان اور امریکا دونوں کی جانب سے مذاکرات میں بڑی پیشکش کا دعویٰ کیے جانے کے باجود پرتشدد واقعات میں اب تک کوئی کمی نہیں آئی۔اس سلسلے میں حالیہ مذاکرات بھی پیر کے روز بغیر کسی سمجھوتے کے اختتام پذیر ہوئے اور آئندہ دور کے لیے بھی کسی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…