بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

ترکی نے قطر میں نئے فوجی اڈے کی تعمیر شروع کردی

datetime 15  اگست‬‮  2019 |

دوحہ (این این آئی)ترکی نے خلیجی ریاست قطر میں ایک نئے فوجی اڈے کی تعمیر شروع کی ہے۔ ترک اخبارکے مطابق دوحا کی منظوری کے بعد انقرہ نے قطر میں نئے فوجی اڈے پر کام شروع کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ترک حکومت کا کہنا ہے کہ نئے فوجی اڈے کے قیام سے قطر میں ترک فوجیوں کی تعداد میں اضافہ ہو گا۔ اخباری رپورٹ کے مطابق جلد ہی ترک صدر رجب طیب ایردوآن اور امیر قطر اس کا افتتاح کریں گے۔

ترک خاتون صحافی ھند فرات نے اخبار میں شائع اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ ترکی قطر میں اپنے سیاسی، سیکیورٹی اور عسکری ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ترک صحافیہ کا کہنا ہے کہ حال ہی میں اس نے دوحہ کا دورہ کیا تھا جہاں اس نے ترک حکام سے طارق بن زیاد چھائونی میں ترکی کی مسلح افواج کے سربراہ اور بری فوج کے چیف کرنل مصطفیٰ ایدن سے بھی ملاقات ہوئی۔ھند فرات کا کہنا ہے کہ ترک فوج دوحہ میں قطر۔ ترکی مشترکہ فورسز کے نام سے ایک فوجی مشن شروع کر رہا ہے۔ عنقریب قطر میں ترک فوجیوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا۔اس کا کہنا ہے کہ جلد ہی آپ ایک ایسے مقام پر ہمارے فوجیوں کے اڈے کے بارے میں سنیں گے جہاں کا درجہ حرارت 47 درجے سینٹی گریڈ ہے۔ ترکی اور قطر کے دو طرفہ عسکری تعلقات کی بنیاد کا مقصد خطے میں امن وامان کا قیام ہے۔ قطر میں طارق بن زیادہ فوجی چھائونی 2015ء کو قائم کی گئی تھی۔ دسمبر 2017ء سے قطر۔ ترکی مشترکہ فوجی کمان کی اصطلاح استعمال کی جاتی رہی ہے۔ترک صحافیہ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر کی جانب سے قطر کے سفارتی، تجارتی اور سیاسی بائیکاٹ کے بعد پیدا ہونے والے بحران کے دوران قطر اور ترکی کو ایک دوسرے کے مزید قریب آنے کا موقع ملا۔اسی دوران 23 جون 2017ء کو سعودی عرب کی قیادت میں چاروں عرب ممالک نے دوحہ میں ترکی کے فوجی اڈے کو ختم کرنے اور انقرہ کے ساتھ عسکری تعاون روکنے کا مطالبہ کیا۔ یہ مطالبہ دوحہ کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے لیے عرب ممالک کی طرف سے پیش کردہ 13 رکنی مطالبات کی فہرست میں شامل تھا۔اس کے جواب میں قطر نے کہا کہ دوحہ میں ترکی کا فوجی اڈہ اس کے لیے غیر معمولی تزویراتی اہمیت کا حامل ہے۔ دوحا کا کہنا ہے کہ خطے میں طاقت کی جنگوں کے پیچھے چھپے راز کا علم ہے۔دوسری طرف خلیجی ممالک نے قطر میں ترک فوج کی موجودگی کو باعث تشویش قرار دیا۔ اس کے باوجود ترکی رفتہ رفتہ خطے میں اپنا اثرو نفوذ بڑھا رہا ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…