منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

ترک عوام نے دوستی کا حق اداکر دیا،سوشل میڈیا پر ترک عوام کی بڑی تعداد کے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی حمایت میں ٹویٹس

datetime 6  اگست‬‮  2019 |

اسلام آباد( آن لائن)سوشل میڈیا پر ترک عوام کی بڑی تعداد نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی حمایت میں ٹویٹس کر دئیے۔ صیلات کے مطابق وزیراعظمعمران خان نے مقبوضہ کشمیر میں حالیہ پیش رفت بارے عالمی رہنماؤں سے رابطوں کے ضمن میں پیر کوترکی کے صدر رجب طیب ایردوان سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔ ترکی کے صدر سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ بھارت کی جانب سے

مقبوضہ کشمیرکی خصوصی حیثیت کو تبدیل کرنے کے غیرقانونی اقدامات سے علاقائی امن اور سلامتی پرسنجیدہ اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہارکیا انہوں نے اس ضمن میں ترکی کے مضبوط حمایت اورتعاون کے عزم کا اعادہ کیا۔تاہم اہم ترین مسئلے پر ترک صدر کے ساتھ ساتھ ترک عوام نے بھی پاکستان کا دوست مالک ہونے کا عملی مظاہرہ کر دکھایا۔سوشل میڈیا پر ترک عوام نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ایک صارف نے کہا کہ ہم نہ صرف مسئلہ کشمیر پر بلکہ ہر مسئلے پر آپکو سپورٹ کریں گے۔ہم دو ریاستیں ہیں لیکن ایک قوم ہیں۔پاکستان نے جنگ میں ترکی کا جو ساتھ دیا تھا وہ ابھی بھی ہمارے ذہنوں میں تازہ ہے۔جب کہ ایک ترک صحافی نے کہا کہ پاکستان اکیلا نہیں ہے۔ترکی کے لوگ کشمیریوں کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔انہوں نے ایک اور ٹویٹ میں کہا کہ کشمیر تمام مسلمانوں کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ترکی پاکستان کے لوگوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ایک صارف نے کہا چاہے کچھ بھی ہو ترکی پاکستانی بہن بھائیوں کو مسئلہ کشمیر پر اکیلا نہیں چھوڑے گااس کے علاوہ بھی کئی ترک صارفین نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی حمایت کا اظہار کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…