منگل‬‮ ، 24 مارچ‬‮ 2026 

آئی ایم ایف اہداف کا حصول ناممکن ہے،عالمی ادارے کی شرائط 80لاکھ افراد کو غربت میں دھکیل دے گی، میاں زاہد

datetime 2  اگست‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف نے معیشت کو لاحق بیماریوں کامناسب علاج تجویز کئے بغیر ناممکن اہداف دئیے ہیں جن کا حصول ناممکن ہے۔اہداف میں ناکامی آئی ایم ایف کی سہہ ماہی پڑتال میں ایک نئے بحران کو جنم دے سکتی ہے۔

میاں زاہد حسین نے بز نس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ درجنوں بار غیر ملکی قرضے لینے کے باوجود معیشت مستحکم نہیں ہو سکی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ انکی شرائط معیشت کو بہتر بنانے کے بجائے صرف بحران ٹالنے میں مددگار ہوتی ہیں۔آئی ایم ایف کی شرائط سے عوام کی زندگی مشکل ہو جاتی ہے امیر و غریب کے مابین فرق بڑھ جاتا ہے اور ملکی ترقی کے عمل کو نقصان پہنچتا ہے جبکہ موجودہ پروگرام کے نتیجہ میں ملک میں غریبوں کی تعداد میں کم از کم 80لاکھ افراد کے اضافہ کا اندیشہ ہے۔انھوں نے کہا کہ گزشتہ چند سال میں معیشت نے5 فیصد ترقی کی مگر ٹیکسوں میں 20 فیصد اضافہ کیا گیا۔امسال معیشت کی شرح نمو 2.4 فیصد رہے گی جبکہ محاصل میں 35 فیصد اضافہ کا ہدف دیا گیاہے جو حیران کن ہے۔نئے اہداف کی وجہ سے ملک بھر میں ہیجانی کیفیت ہے اور تاجر ہڑتالیں کر رہے ہیں جبکہ صنعتی شعبہ بھی احتجاج کر رہا ہے۔نئے ٹیکس اہداف کا شورزیادہ مگر حصول کم ہے۔انھوں نے کہا کہ بجٹ اقدامات کے نتیجہ میں حکومت کی آمدنی میں 1.8 کھرب روپے تک کا اضافہ متوقع ہے تاہم اس سے سماجی شعبہ کو فائدہ نہیں ہو گا کیونکہ ایک کھرب روپے قرضوں کی ادائیگی میں چلے جائینگے۔آئی ایم ایف نے امسال برآمدات میں آٹھ فیصد اضافہ کا اندازہ لگایا ہے جبکہ حقیقت میں برآمدات گر رہی ہیں۔اس ادارے نے کہا ہے کہ پانچ سال میں پاکستان کی برآمدات 36.7 ارب ڈالر تک بڑھ جائیں گی جبکہ اگلے مالی سال میں سات کھرب کے محاصل وصول کئے جائیں گے جس پر موجودہ پالیسیوں اوربلند شرح سود کی موجودگی میں یقین مشکل ہے۔انھوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے پروگرام کے منفی اثرات کم کرنے کے لئے سی پیک پر زیادہ توجہ دینے، سرمایہ کاری میں اضافے اور امریکہ کی مدد سے آئی ایم ایف کی شرائط نرم کروانے کی ضرورت ہے۔



کالم



مذہب کی جنگ(آخری حصہ)


اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…