پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

کیا بیوی کو بغیر اجازت شوہر کے بٹوے سے پیسے نکالنے چاہیے؟ ، اسلام اس بارے میں کیا کہتا ہے ؟جانئے

datetime 14  جولائی  2019 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) میاں بیوی کا رشتہ بہت مضبوط رشتہ ہوتا ہے ۔میاں بیوی ایک دوسرے کے دکھ سکھ کے ساتھی ہوتے ہیں اس لحاظ سے انکاایک دوسرے پر سب سے زیادہ حق ہوتا ہے ایک مسئلہ جو ہمارے ہاں اکثر درپیش رہتا ہے کہ بیوی اپنے شوہر کے بٹوے یا جیب سے از خود پیسے نکال لیتی ہے اور یہ عمل بعد میں میاں بیوی کےدرمیان لڑائی جھگڑے کا باعث بھی بنتا ہے۔ اسلام اس حوالے سے کہتا ہے کہ

عورت کو چاہئے کہاپنے نفس ومال میں شوہرکی مرضی کے خلاف کوئی تصرف نہ کرے مال میں تصرف سےمراد وہ مال ہے جو مرد نے ضروریات زندگی کیلئے عورت کو دیا ہے اس میں اس کی مرضی واجازت کے بغیر خرچ کرنا درست نہیں اور بعض علماء نے کہا ہے کہ مال سے مراد عورت کا مال مراد ہے اس صورت میں عورت کواپنے مال میں بھی بغیر شوہر کی مرضی کے تصرف نہیں کرنا چاہئے بہترین عورت کا یہی کردار ہوتا ہے۔ عورت کو اجازت کے بغیر اس کے مال میں سے کسی کو تحفہ دینا بھی جائز نہیں البتہ وہ اپنے مال میں سے دے سکتی ہے۔ رسول اللہ ؐ نے فر مایا کہ کسی عورت کیلئے اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر کسی کو تحفہ دینا جائز نہیں ( نسائی کتاب الزکوۃ۵/ ۶۶)غرض کوئی عورت اپنے شوہر کے گھر کی کوئی چیز اس کی اجازت کے بغیر خرچ نہیں کر سکتی علماء نے لکھا ہے کہ اس سے مراد یہہے کہ عورت اپنے شوہر کے مال کو اندھا دھند یا بیدردی سے خرچ نہ کرے بلکہ اس میں اعتدال اور میانہ روی کا پہلو اختیار کرے اگر وہ ایسا کرے گی تو اس پر اس کو ثواب بھی ملے گا ہاں اگر کوئی ہنگامی ضرورت پیش آجائے یا اتنا لینے کی حاجت لاحق ہو جائے جو عمومی اخراجات اور خیر وخیرات کےماسوا ہو تو پھر اس سلسلہ میں شوہر کی اجازت ضروری ہو جائیگی لیکن اگر شوہرنے اس طرح کی اجازت پہلے سے دے رکھی ہو تو پھر کوئی حرج نہیں ہے رسول اللہ نے فر مایا کہ جب عورت اپنے گھر کا کھانا ( یا اناج ) بغیر کسی خرابی کے خرچ کرتی ہے تو اسے اجر ملے گا اور شوہر کو بھی اس کی کمائی کی وجہ سے اور جمع کرنے والے کو بھی اسی طرح کا ثواب ہو گا۔( بخاری کتاب الزکوۃ ۲/ ۰۲۱)اس حدیث سے امام بخاری نے یہ استدلال کیا ہے کہ عورت اپنے شوہر کی غیر موجودگی میں اپنا اور اپنے بچوں کا نفقہ شوہر کے مال میں سے لے سکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…