جمعہ‬‮ ، 16 جنوری‬‮ 2026 

پاکستان سے فوجی تعلقات برقرار رکھنے کی ضرورت کیوں درپیش ہے، امریکی جنرل نے وضاحت جاری کر دی

datetime 12  جولائی  2019 |

واشنگٹن(آن لائن)امریکا کے مستقبل کے فوجی سربراہ جنرل مارک ملی کہا ہے کہ امریکا کو پاکستان سے فوجی تعلقات برقرار رکھنے چا یئے ۔ موجودہ حالات میں پاکستان سے فوجی تعلقات برقرار رکھنا صرف ایک نہے بلکہ دونوں ملکوں کے مفاد میں ہیں ۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق جنرل مارک ملی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی سربراہی کے لیے نامزد کر رکھا ہے۔

انہوں نے اپنی نامزدگی کے موقع پر خدشہ ظاہر کیا کہ افغانستان سے امریکی فوج کا فوری انخلا غلطی ہوگی۔ انہوں نے سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو بتایا کہ ‘چیئرمین بننے کے بعد میں امریکا اور پاکستان کے درمیان دفاعی تعلقات برقرار رکھنا چاہوں گا اور ہم پاکستان سے کارروائیوں کا مطالبہ کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم نے سیکیورٹی معاونت معطل کردی ہیں اور دفاعی مذاکرات روک دی ہیں مگر ہمیں اپنے مشترکہ مفادات پر فوجی تعلقات قائم کرنے کی ضرورت ہے’۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب وزیر اعظم عمران خان چند روز بعد امریکا کا دورہ کرنے والے ہیں جو پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ جنرل ملی نے سینیٹرز کی جانب سے افغانستان کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ‘مجھے لگتا ہے کہ افغانستان سے فوج کا انخلا حکمت عملی کی غلطی ثابت ہوگا’۔چیف آف آرمی اسٹاف جنرل ملی نے افغانستان، عراق، سومالیہ اور کولمبیا میں اپنی خدمات دی ہیں اور امید کی جارہی ہے کہ وہ چیفس آف اسٹاف کے سربراہ بغیر کسی مخالفت کے بن جائیں گے۔افغانستان میں انہوں نے امریکی فوج کی جانب سے کمانڈنگ جنرل، انٹرنیشنل سیکیورٹی اسسٹنس فورس جوائنٹ کمانڈ اور ڈپٹی کمانڈنگ جنرل کے طور پر خدمات سر انجام دی ہیں۔سینیٹ کے پینل نے انہیں افغانستان، پاکستان اور عراق کے حساس معاملات پر تحریری سوالنامہ ارسال کیا جس کے جواب میں انہوں نے پاکستان سے دفاعی تعلقات کی ضرورت کو اجاگر کیا اور کہا کہ اسلام آباد کا افغانستان میں امن و استحکام میں اہم کردار ہے اور پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کی اہم ضرورت ہے۔ کمیٹی نے سوال کیا کہ ‘آپ اس عہدے پر پاکستان سے امریکا کے تعلقات، بالخصوص فوج سے فوج تعلقات اور عالمی سطح پر فوجی تربیت کے حوالے سے کیا تجاویز دیں گے’۔اس کے جواب میں انہوں نے کہا ‘ڈونلڈ ٹرمپ کی جنوبی ایشیا کی حکمت عملی پاکستان کو امریکی مفادات حاصل کرنے میں اہم شراکت دار بتاتی ہے جس میں افغانستان میں القائدہ اور داعش-خراساں کو شکست دینے کے لیے سیاسی معاہدے جن میں امریکی فوج کو ساز و سامان فراہم کرنا اور خطے میں استحکام برقرار رکھنا شامل ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…