ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

جولائی اور اگست میں مون سون بارشیں، پہاڑوں پر برف پگھلنے کے باعث سیلاب،خطرے کی گھنٹی بج گئی،متعدد علاقوں میں ہنگامی اقدامات

datetime 6  جولائی  2019 |

پشاور(آن لائن)جولائی اور اگست میں مون سون بارشوں اور پہاڑوں پر برف پگھلنے کے باعث سیلاب کے خطرات کے پیش نظر صوبے کے 372یونین کونسلوں کو حساس ترین قرار دیدیا ہے، دریائے سوات اوردریائے کابل کے کنارے آباد آبادیوں کو حفاظتی اقدامات کی ہدایات کی گئی ہے کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوج سے خدمات حاصل کی جائیگی

ذرائع کے مطابق سیلاب کے خطرات  کے پیش نظر ممکنہ متاثرین کو سرکاری سکولوں میں منتقل کیا جائے گا محکمہ صحت، بلدیات، ضلعی حکومتوں سمیت متعلقہ حکام کو ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی ہدایات کی ہے۔ صوبائی دارلحکومت پشاور کے 24یونین کونسلوں، چارسدہ کے 24یونین کونسلوں، سوات کے 45، نوشہرہ کے 28، مانسہرہ کے 18، بنوں کے 2، جنوبی وزیرستان کے 12، شمالی وزیرستان کے 10، خیبر کے 10یونین کونسلوں، کوہستان اور شانگلہ کے 19.19مانسہرہ کے 18، دیر لوئرکے 7، دیر بالا، مالاکنڈ، چترال اپر اور چترال لوئر کے پانچ پانچ، صوابی کے 10، طور غر کے 9، ٹانک کے گیارہ، ابیٹ آباد کے 2، بٹگرام کے 8، بونیر کے 3، ہنگو کے 6، ہری پور کے 7، کرک کے 12، کوہاٹ اور لکی مروت کے 11,11، مہمند کے 5، کرم کے 4، یونین کونسلوں کو حساس اور حساس ترین قرار دینے کے بعد حفاظتی اقدامات شروع کر دیئے گئے ہیں صوبائی دارلحکومت پشاور میں دریائے سوات اور دریائے کابل کے کناروں پر آباد 24یونین کونسلوں کے ساڑھے آٹھ لاکھ آبادی کے لئے حفاظتی اقدامات شروع کر دیئے گئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…