بدھ‬‮ ، 19 اگست‬‮ 2026 

اب گائے بھینس کی قربانی کرنے والوں کی ہوگی اپنی بھی قربانی قیمتی مویشیوں کی قربانی پر ٹیکس عائد، خریداری کیسے ہو گی؟شرط عائد

datetime 6  جولائی  2019 |

کراچی( آن لائن )سندھ حکومت کی جانب سے ٹیکس کا ہدف بڑھانے کے انوکھا اقدام اٹھا لیا گیا۔ اب گائے بھینس کی قربانی کرنے والوں کو بھی ٹیکس ادا کرنا ہو گا۔ تفصیلات کے مطابق قیمتی مویشی کی خریداری پر چیک کیا جائے گا کہ جانور خریدنے والا شخص فائلرہے یا نان فائلر۔ جبکہ اس سے جانور کی خریداری کے لیے آمدنی کے ذرائع بھی معلوم کیے جائیں گے۔

اس طرح تمام قیمتی مویشیوں کی خریداری چیک کے ذریعے ہو گی۔ اس مقصد کے لیے سندھ حکومت نے تمام مویشی منڈیوں میں انسپکٹرز تعینات کر دیئے ہیں۔ حکومت کے مطابق 40 ہزار روپے تک کے قربانی کے جانور پر کوئی ٹیکس عائد نہیں ہو گا۔ یہ جانور پہلے جیسے معمول کے مطابق خریدے جا سکیں گے۔ جبکہ اس سے زائد قیمت کے جانوروں کی خریداری صرف چیک کے ذریعے ہی ہو سکے گی۔اس خبر کے سامنے آنے پر جانوروں کے گاہکوں اور بیوپاریوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ کیونکہ چیک کے ذریعے مویشی کی خریداری کے باعث بیوپاریوں کو شدی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ بیوپاری چیک پر بھی اعتماد نہیں کرتے۔ بیوپاری نقد رقم پر مویشی فروخت کرتے ہیں اور اگر حکومت نے اس پالیسی میں تبدیلی نہ کی تو قربانی کا جانور خرید کر مذہبی فریضہ ادا کرنے والوں عام لوگوں کو اچھی خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔اس حوالے سے جانوروں کے بیوپاریوں کا کہنا ہے کہ منڈی میں مویشی کی خرید و فروخت کے موقع پر کافی دیر تک بحث اور سودے بازی ہوتی ہے اور بیوپاری کی جانب سے بھاری نقد طلب کی جاتی ہے۔ اگر حکومت نے مویشی کی خریداری میں بینک چیک کی شرط کو بحال رکھا تو اس سے بیوپاریوں کو کروڑوں کا نقصان ہو گا اور اکثر نان فائلر لوگ جانوروں کی خریداری سے اجتناب کریں گے۔ جس سے اس بار جانوروں کی فروخت میں واضح کمی ہو سکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…