اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

ملکی سلامتی کے نام پر عدلیہ کا اختیار استعمال کرنا نظریہ ضرورت ہے،سپریم کورٹ

datetime 3  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد (آن لائن) سپریم کورٹ میں 18 ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواست گزاروں کے دلائل مکمل کر لئے گئے ہیں ۔ فوجی عدالتوں کے خلاف دلائل آج جمعرات کو 11 بجے جاری رہیں گے ۔ 2 ججز کی رخصت کی وجہ سے مقدمے کی مزید سماعت کا آغاز 16 جون سے کیا جائے گا ۔ دوران سماعت جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کے فیصلوں کے خلاف عدلیہ کا بالکل اختیار نہ ہونا خطرناک ہو گا ۔ ملکی سلامتی کے نام پر عدلیہ کا اختیار استعمال کرنا نظریہ ضرورت ہے ۔ آئین کا دفاع سپریم کورٹ اس صورت میں کرنے میں بااختیار ہے جب اس پر حملہ کیا جائے گا ۔ آئین کے تحفظ کے لئے ہم کس حد تک جا سکتے ہیں اس بارے معاملات واضح نہیں ہیں ۔ اگر ہم پر ریاست کے تحفظ کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے تو کیا پارلیمنٹ کے اختیار کا تحفظ ہماری ذمہ دار نہیں ہے ۔ بھارت نے بھی حال ہی میں ہماری طرز پر ججز کی تقرری کا جوڈیشل کمیشن بنانے کی ترمیم کی ہے جو چیلنج کی گئی ہے ۔ آئین عوام کا بنایا ہوا ہے اوراب ہم ان سے کہیں کہ آپ نے آئین بناتے ہوئے بالغ نظری کا مظاہرہ نہیں کیا ۔ جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ آئین نے اختیارات میں توازن رکھا ہے ہم مکمل اختیارات رکھنے کے باوجود کسی کو جوابدہ ہیں ۔ اگر ریاستی آئین کو کوئی خطرہ ہے یا ریاست خطرے میں ہے تو کیا عدالت اس خطرے کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے آئین ترامیم کالعدم یا اس کی توثیق کر سکتی ہے ۔ ہم آئین ترامیم کو کالعدم قرار نہیں دے سکتے ۔ کیا دوسرے لفظوں میں اس ریات میں نظریہ ضرورت زندہ ہے ۔ جبکہ حفیظ پیرزادہ نے دلائل مکمل کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کو اختیارات کے حوالے سے شتر بے مہار نہیں چھوڑا جا سکتا ۔ سپریم کورٹ آئین کی محافظ ہے اور آئین کے مطابق اپنا اختیار استعمال کر سکتی ہے جبکہ حامد خان نے فوجی عدالتوں کے خلاف دلائل میں کہا ہے کہ ملک میں فوجی عدالتیں بنانا کوئی نئی بات نہیں ہے مگر سپریم کورٹ ان کو پہلے بھی غیر آئینی و غیر قانونی قرار دے چکی ہے یہ آرٹیکل 2 اے ، 8 ،25 ، 19 ، 175 ، 10 اے سمیت دیگر آرٹیکلز سے متصادم ہے ۔ انہوں نے یہ دلائل چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں 17 رکنی فل کورٹ بینچ کے روبرو دیئے ہیں ۔ عبدالحفیظ پیرزادہ نے بدھ کے روز دلائل کا آغاز کیا ۔ اور کہا کہ حامد خان دلائل دیں گے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…