بدھ‬‮ ، 19 اگست‬‮ 2026 

راہبر کمیٹی کا اہم ترین اجلاس،تاہم رہنمائوں کو موبائل فون اندر کیوں نہ لے جانے دیئے گئے ؟کمیٹی کے فیصلوں سے کونسا بھونچال آنے والا ہے ؟

datetime 5  جولائی  2019 |

اسلام آباد( آن لائن )اپوزیشن کی راہبر کمیٹی نے چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کو ہٹانے سے متعلق اے پی سی فیصلے کی توثیق کردی ہے ۔ گزشتہ روز جمعہ کو حکومت مخالف احتجاجی تحریک چلانے سے متعلق اور چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کو ہٹانے کے حوالے سے نو سیاسی جماعتوں کے گیارہ اراکین پر مشتمل راہبر کمیٹی کا پہلااجلاس منعقد ہوا اس موقع پر اجلاس میں شرکت کیلئے

آنے والے رہنمائوں کے موبائل فون کمیٹی سے باہر رکھوائے گئے تاکہ کمیٹی میں ان رہنمائوں کو باہر سے کوئی مشورہ یا اندر کی کوئی بات لیک نہ ہوجائے ۔ ذرائع کے مطابق راہبر کمیٹی نے چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کو ہٹانے کا متفقہ فیصلہ کرلیاگیا ہے کہ نئے چیئرمین سینٹ کے نام پر مشاورت کی جائے گی کمیٹی میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے دو ، دو جبکہ دیگر اپوزیشن جماعتوں کا ایک ایک نمائندہ شامل تھا ۔ راہبر کمیٹی میں پیپلز پارٹی کی جانب سے یوسف رضا گیلانی ، نیئر بخاری ممبر تھے تاہم یوسف رضا گیلانی کی عدم موجودگی کے باعث فرحت اللہ بابر نے اجلاس میں شرکت کی ۔ اس موقع پر صحافی نے فرحت اللہ بابر سے سوال کیا کہ آپ تو ممبر ہی نہیں ہیں تو پھر کمیٹی میں شرکت کیسے کی جس پر فرحت اللہ بابر نے بتایا کہ یوسف رضا گیلانی کی عدم موجودگی میں مجھے کمیٹی کا ممبر بنایا گیا ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال راہبر کمیٹی کے ممبر ہیں جمعیت علمائے اسلام سے اکرم خان درانی ، نیشنل پارٹی سے میر حاصل بزنجو کمیٹی میں شامل ہوئے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی سے عثمان کاکڑ ، قومی وطن پارٹی سے ہاشم بابر ، اے این پی سے میاں افتخار مرکزی جمعیت اہلحدیث سے شفیق پسوری اور جمعیت علمائے پاکستان سے اویس نورانی نے راہبر کمیٹی میں شرکت کی ۔بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ(ن) کے راہنما احسن اقبال نے کہا ہے کہ چیئرمین سینٹ کے لئے 3 تجاویز دی ہیںپہلی تجویز یہ کہ تمام اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے کوئی مشترکہ نام ہو ، دوسری تجویز یہ دی جا رہی ہے کہ سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کو چیئرمین سینٹ دیا جائے اگر اس پر بھی عمل نہیں ہوتا تو پھر تیسری تجویز یہ ہے کہ سب سے بڑی دو سیاسی جماعتیں مشاورت سے ایک نام دیں ۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کے خلاف بہت جلد تحریک عدم اعتماد لائیں گے اور رہبر کمیٹی سے فیصلے کرے گی کہ بھونچال آ جائے گا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…