ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

عمران خان اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان تاریخی ملاقات کب ہوگی؟تاریخ کا اعلان کردیا گیا

datetime 4  جولائی  2019
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (این این آئی) ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا ہے کہ امریکی صدر کی دعوت پر وزیراعظم امریکہ کا دورہ کریں گے،22 جولائی کو ملاقات ہو گی، بلوچ لبریشن آرمی کو امریکہ نے اپنی دہشت گرف جماعتوں کی فہرست میں ڈالا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کی مذمت کرتے ہیں،بھارت عالمی برادری کو گمراہ کرنا بند کرے۔

پاکستان نے کرتارپور راہداری پر مذاکرات کیلئے 14 جولائی کی تاریخ دی ہے،مذاکرات واہگہ پاکستان میں ہونگے،بھارتی وزیراعظم کو دعوت دئیے جانے کا علم نہیں، دولت مشترکہ وزرا خارجہ میٹنگ میں پاک بھارت وزرا ئے خارجہ کی ملاقات کا امکان نہیں ہے۔جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کی مذمت کرتے ہیں،قابض بھارتی افواج نے گزشتہ تین ہفتوں میں 40 نہتے کشمیریوں کو شہید کیا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کو سینئر حریت قیادت کی حراست پر شدیدی تشویش ہے،ان لوگوں کے بدنام زمانہ تہار جیل میں رکھاگیا ہے،سری نگر کے ایک اخبار کے ایڈیٹر کی حراست کی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بھارت عالمی برادری کو گمراہ کرنا بند کرے۔ انہوں نے کہاکہ اقوام متحدہ اور دیگر اداروں کے ساتھ تعاون کرنے والوں کے ساتھ تشدد کی خبروں پر شدید تشویش ہے۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان نے کرتارپور راہداری پر مذاکرات کیلئے 14 جولائی کی تاریخ دی ہے،یہ مذاکرات واہگہ پاکستان میں ہونگے۔ انہوںنے کہاکہ بلوچ لبریشن آرمی کو امریکہ نے اپنی دہشت گرف جماعتوں کی فہرست میں ڈالا ہے۔ انہوںنے کہاکہ امریکی صدر کی دعوت پر وزیراعظم امریکہ کا دورہ کریں گے،22 جولائی کو ملاقات ہو گی۔

ملاقات میں پاک امریکہ تعلقات کو بحال کرنے پر فوکس کیا جائیگا۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ پاکستان نے کرتار پور پر 14 جولائی کی تاریخ طے کی ہے،بھارتی وزیراعظم کو دعوت دئیے جانے کا علم نہیں۔ انہوںنے کہاکہ کرتار پور پر مثبت طریقہ سے کام ہو رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ افغان امن عمل میں پاکستان کا اہم کردار ہے،تمام مذاکرات اسی سلسلے کی کڑی ہے،افغانستان کا اصل حل افغان لیڈ ہے،چاہتے ہیں کہ ان مذاکرات کے نتیجہ میں انٹرا افغان مذاکرات تک پہنچیں۔

انہوں نے کہاکہ وزیراعظم کی دعوت پر اشرف غنی نے پاکستان کا دورہ کیا،افغان صدر کے دورے کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کے فروغ پر اتفاق کیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ تجارت کے فروغ کے لئے ہی پاکستان نے تورخم سرحد کو 24 گھنٹے کے لیے کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان علاقائی رابطوں کے فروغ پر یقین رکھتا ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ دائود ابراہیم پاکستان میں نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ دولت مشترکہ وزرا خارجہ میٹنگ میں پاک بھارت وزرا ئے خارجہ کی ملاقات کا امکان نہیں ہے۔ ڈاکٹر فیصل نے کہاکہ لائن آف کنٹرول پر دھماکہ کی نتیجے میں پانچ شہادتیں ہوئیں،ہمیں اپنے فوجیوں پر فخر ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…