منگل‬‮ ، 21 اپریل‬‮ 2026 

عمران خان اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان تاریخی ملاقات کب ہوگی؟تاریخ کا اعلان کردیا گیا

datetime 4  جولائی  2019 |

اسلام آباد (این این آئی) ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا ہے کہ امریکی صدر کی دعوت پر وزیراعظم امریکہ کا دورہ کریں گے،22 جولائی کو ملاقات ہو گی، بلوچ لبریشن آرمی کو امریکہ نے اپنی دہشت گرف جماعتوں کی فہرست میں ڈالا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کی مذمت کرتے ہیں،بھارت عالمی برادری کو گمراہ کرنا بند کرے۔

پاکستان نے کرتارپور راہداری پر مذاکرات کیلئے 14 جولائی کی تاریخ دی ہے،مذاکرات واہگہ پاکستان میں ہونگے،بھارتی وزیراعظم کو دعوت دئیے جانے کا علم نہیں، دولت مشترکہ وزرا خارجہ میٹنگ میں پاک بھارت وزرا ئے خارجہ کی ملاقات کا امکان نہیں ہے۔جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کی مذمت کرتے ہیں،قابض بھارتی افواج نے گزشتہ تین ہفتوں میں 40 نہتے کشمیریوں کو شہید کیا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کو سینئر حریت قیادت کی حراست پر شدیدی تشویش ہے،ان لوگوں کے بدنام زمانہ تہار جیل میں رکھاگیا ہے،سری نگر کے ایک اخبار کے ایڈیٹر کی حراست کی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بھارت عالمی برادری کو گمراہ کرنا بند کرے۔ انہوں نے کہاکہ اقوام متحدہ اور دیگر اداروں کے ساتھ تعاون کرنے والوں کے ساتھ تشدد کی خبروں پر شدید تشویش ہے۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان نے کرتارپور راہداری پر مذاکرات کیلئے 14 جولائی کی تاریخ دی ہے،یہ مذاکرات واہگہ پاکستان میں ہونگے۔ انہوںنے کہاکہ بلوچ لبریشن آرمی کو امریکہ نے اپنی دہشت گرف جماعتوں کی فہرست میں ڈالا ہے۔ انہوںنے کہاکہ امریکی صدر کی دعوت پر وزیراعظم امریکہ کا دورہ کریں گے،22 جولائی کو ملاقات ہو گی۔

ملاقات میں پاک امریکہ تعلقات کو بحال کرنے پر فوکس کیا جائیگا۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ پاکستان نے کرتار پور پر 14 جولائی کی تاریخ طے کی ہے،بھارتی وزیراعظم کو دعوت دئیے جانے کا علم نہیں۔ انہوںنے کہاکہ کرتار پور پر مثبت طریقہ سے کام ہو رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ افغان امن عمل میں پاکستان کا اہم کردار ہے،تمام مذاکرات اسی سلسلے کی کڑی ہے،افغانستان کا اصل حل افغان لیڈ ہے،چاہتے ہیں کہ ان مذاکرات کے نتیجہ میں انٹرا افغان مذاکرات تک پہنچیں۔

انہوں نے کہاکہ وزیراعظم کی دعوت پر اشرف غنی نے پاکستان کا دورہ کیا،افغان صدر کے دورے کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کے فروغ پر اتفاق کیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ تجارت کے فروغ کے لئے ہی پاکستان نے تورخم سرحد کو 24 گھنٹے کے لیے کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان علاقائی رابطوں کے فروغ پر یقین رکھتا ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ دائود ابراہیم پاکستان میں نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ دولت مشترکہ وزرا خارجہ میٹنگ میں پاک بھارت وزرا ئے خارجہ کی ملاقات کا امکان نہیں ہے۔ ڈاکٹر فیصل نے کہاکہ لائن آف کنٹرول پر دھماکہ کی نتیجے میں پانچ شہادتیں ہوئیں،ہمیں اپنے فوجیوں پر فخر ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گریٹ گیم(تیسرا حصہ)


ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…